حالات و مشاہدات

پاک بھارت اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے خیالات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان شائع ہوا کہ پاک بھارت گول میز کانفرنس منعقد ہونی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے اس سلسلے میں مشرقی اور مغربی جرمنی کی مثال دی جو نصف صدی کے بعد دوبارہ متحد ہو چکے ہیں۔ ہماری رائے میں جرمنی کی مثال کا اطلاق پاک بھارت اتحاد پر نہیں ہو سکتا کیونکہ جرمنی کی تقسیم خالصتاً اتحادی قوتوں کی پیدا کردہ تھی، جنہیں اندیشہ تھا کہ متحدہ جرمنی دوبارہ طاقت پکڑ کر ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ تقسیم ہند کا معاملہ اس سے خاصا...

امریکہ کا حالیہ سفر اور چند تاثرات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے گزشتہ ماہ کے دوران دو ہفتے کے لیے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اس سال سہ ماہی اور شش ماہی امتحان یکجا کر دیے گئے اور سال کے درمیان میں ایک ہی امتحان رکھا گیا جس کے بعد دو ہفتے کی چھٹیاں کر دی گئیں۔ میرے پاس امریکہ کا ویزا موجود تھا اس لیے میں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ۱۰ مئی ۲۰۰۳ء کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے روانہ ہوا اور اسی روز ہیتھرو سے یونائیٹڈ ایئر کے ذریعے شام کو واشنگٹن جا پہنچا۔ اس سے قبل ۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔...

امریکہ ۔ ہمارا دوست یا دشمن؟

ڈاکٹر محمد فاروق خان

عالم اسلام کے اندر اس وقت اس سوال پر بڑی بحث ہو رہی ہے کہ آیا امریکہ پورے عالم اسلام اور بذات خود مذہب اسلام کو دشمن کی نظر سے دیکھتا ہے یا وہ درحقیقت عالم اسلام کا دوست ہے ۔یا پھر یہ کہ وہ عالم اسلام کا نہ دوست ہے نہ دشمن ، بلکہ وہ عالم اسلام کے ہر ملک سے علیحدہ علیحدہ محض تعلقات کار رکھنا چاہتا ہے۔ جو مکتب فکر یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ پورے عالم اسلام اور بذات خود مذہب اسلام کا دشمن ہے ،ا س کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ دراصل اسی استعماری اور سامراجی قو ت کا تسلسل ہے جس نے مسلمانوں کے ساتھ صلیبی جنگیں چھیڑیں اور جو بعد میں یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی شکل...

دیوبند اور جہاد

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

دیوبند (دار العلوم دیوبند) ان دنوں بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ افغانی طالبان پر جو قہر گزشتہ دنوں ٹوٹا، ہماری (بی جے پی) حکومت نے اس موقع پر ہر کردنی وناکردنی اس خواہش کے ماتحت کی تھی کہ امریکہ بہادر کے ساتھ اس کے لیے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالنے کی صورت بن جائے مگر امید بر نہ آ سکی۔ اس محرومی کی تلافی اب وہ طالبان کی ’دیوبندیت‘ کے حوالے سے دیوبند اور اس کی نسبت کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سلسلہ مدارس پر ستم آزمائی کی شکل سے کرنے میں لگ گئی ہے۔ طالبان بے شک ’’دیوبندی‘‘ تھے۔ اور وہ اگر ’جہاد‘ پیشہ تھے تو دیوبند کو اس پر بھی کسی معذرت کی ضرورت نہیں...

امریکی جارحیت کے محرکات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

عالمی سیاست کے حقیقت پسند مکتبہ فکر کے مطابق کسی بھی قسم کی ’’قدریں‘‘ قومی مفاد کا جزو لا ینفک نہیں ہوتیں۔ مغربی ممالک کی عمومی نفسیات اسی مکتبہ فکر سے متاثر ہے لہٰذا ان ممالک میں قومی مفاد کو قدروں سے وابستہ کرنے کے بجائے تزویراتی مفاد سے وابستہ کیا جاتا ہے، اگرچہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈھنڈورا اعلیٰ انسانی قدروں کا ہی پیٹا جاتا ہے۔ افغانستان اور عراق کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات میں بھی ’’انسانی تہذیب کی سلامتی‘‘ جیسے جوازات گھڑے گئے ہیں حالانکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی پالیسی ساز قدریاتی تعیش پر مبنی...

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اکثر اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہمارے مذہبی معاشرے کے عوام سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس کے جواب میں دو نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں: مذہبی جماعتوں کا موقف یہ ہوتا ہے کہ انگریز کے ٹوڈی ان کی راہ میں حائل ہیں ورنہ عوام تو دل وجان سے مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ خود عوام ہی کو منافقت پسند اور دوغلا قرار دیتے ہیں جو عام زندگی میں تو دین پر عمل کے حوالے سے علما کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن سیاست میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ علما کے مخالف طبقے کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ علما جدید عہد کے تقاضوں...

دار العلوم دیوبند اور دہشت گردی

مولانا حبیب الرحمن قاسمی

دار العلوم دیوبند محض ایک دینی مدرسہ اور تعلیمی وتربیتی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی‘ علمی اور اصلاحی تحریک کا عنوان ہے جس نے ملت اسلامیہ کو فکر ونظر کی طہارت وپاکیزگی‘ قلب وجگر کو عزم واستقامت اور جسم وجان کو تازگی وتوانائی بخشنے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اقامت دین اور حریت فکر کی یہی ہمہ گیر تحریک آج ’’دیوبندیت‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔یہ دیوبندیت کوئی جدید مذہب یا فرقہ نہیں بلکہ سلف صالحین سے متوارث قدیم مسلک اہل سنت والجماعت کا ایک متوازن وجامع مرقع ہے جس میں اہل سنت والجماعت کی تمام شاخیں مربوط اور ہم آہنگ ہو گئی...

مجوزہ آئینی ترامیم کا ایک جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

این آر بی کی طرف مجوزہ آئینی ترامیم منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کا پس منظر اور بنیاد صدر پاکستان کا وہ فرمان ہے جس کے مطابق انہوں نے واقعیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’طاقت‘‘ کے تین ستونوں کی نشان دہی کی ہے: صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف۔ صدر محترم کا فرمان ہے کہ ان تینوں کے درمیان ’’توازن‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجوزہ آئینی ترامیم کا سرسری مطالعہ ہی واضح کر دیتا ہے کہ اصل اہتمام صدر کو ’’فنا فی الدستور‘‘ کرنے کا کیا جا رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ترمیمی پیکج تیار کرنے والے ’’تھنک ٹینک‘‘ نے سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اکیسویں صدی کے تقاضوں...

سرحدی کشیدگی اور مغربی عزائم

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت ساری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں۔ اس خطے کی سات بڑی ریاستوں میں سے دو ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ جنگ کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان‘ بھارتی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ورنہ باقی پانچ ریاستوں میں سے کسی میں اتنا دم خم نہیں کہ انڈیا سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھ سکے۔ انڈیا کا بارڈر بھی تقریباً تمام ریاستوں سے متصل ہے جس سے انڈیا کو در اندازی کے تمام مواقع میسر ہیں۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ نااتفاقی کے سبب ایک اصول پر متفق ہے: باہمی عدم اتحاد۔ بالخصوص انڈیا اور پاکستان کے مابین انتہائی...

پاکستان کے دینی حلقوں کا اصولی موقف

ادارہ

۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد کانفرنس سنٹر لٹن روڈ لاہور میں روزنامہ پاکستان ویلغار کے زیر اہتمام ’’خلافت راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خان نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے جبکہ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا میاں محمد جمیل، جمعیۃ العلماء پاکستان کے مولانا قاری زوار بہادر، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا خلیل الرحمن حقانی، تحریک خلافت پاکستان...

امریکی اور برطانوی جارحیت۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

پہلی جنگ عظیم میں امریکی شمولیت کے حوالے سے جواز پیدا کرتے ہوئے وڈرو ولسن نے کہا تھا کہ اس طرح دنیا جمہوریت کے لیے محفوظ (Safe for democracy) ہو جائے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر شمالی امریکہ اور برطانیہ کے سامنے ایک موثر اور طاقت ور کمیونسٹ گروہ آنے سے یہ ’’تحفظ‘‘ قائم نہ رہا۔ اسی لیے سرد جنگ کے دوران میں امریکہ اور برطانیہ کی خارجی پالیسی کا محور کمیونسٹ گروہ کو فوجی طاقت کے اعتبار سے بہت پیچھے رکھنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس مقصد کا حصول اپنی فوجی طاقت میں بے پناہ اضافے سے ہی ہو سکتا تھا۔ سرد جنگ کے دوران میں امریکی وبرطانوی سرگرمیاں جمہوریت کے حوالے...

جنرل مشرف کا دورۂ امریکہ ۔ اور پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت

پروفیسر شیخ عبد الرشید

جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ حکومتی توقعات کے مطابق اور عوامی توقعات کے برعکس مکمل ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا اور اپنے مقاصد میں کام یابی کی واضح نشان دہی کی اور اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئی صدی میں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک امریکہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستانی حکمران جب بھی امریکہ یاترا پر گئے تو واپسی پر قوم کو یہی نوید دی کہ اب پاک امریکہ دوستی طویل المیعاد‘ پائیدار اور مستحکم وخوش حال پاکستان...

افغانستان اور موجودہ عالمی صورت حال

ادارہ

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ اور ادارتی شذرات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جن میں موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خدشات وتوقعات کی بہت بہتر انداز میں عکاسی کی گئی ہے اور ہمیں بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے اتفاق...

افغانستان میں امریکی پالیسی کا ایک جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے اپنی نوعیت کے لحاظ سے حیران کر دینے والے تھے۔ عالمی سطح پر رائج رجحانات کے پس منظر میں یہ واقعہ ’’اپ سیٹ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے امریکہ کو فوجی، اقتصادی اور نفسیاتی حوالے سے شدید دھچکا لگا۔ نفسیاتی بازیابی تو شاید فوری ممکن نہیں ہوگی تاہم کچھ نہ کچھ مداوا کرنے کے لیے امریکہ نے کسی ثبوت اور تصدیق کے بغیر اس واقعہ کی ذمہ داری اسامہ بن لادن اور اس کے نیٹ ورک القاعدہ پر ڈال کر ان کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کیا اور پھر عالمی تعاون حاصل کر کے افغانستان پر حملہ...

چین میں مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت

اولیور آگسٹ

مسلمان دہشت گردوں کا واسطہ کل سزائے موت دینے والے عملے (Death squad)سے تھا۔ شراب کے اثر سے ان کے حواس بجا نہیں تھے اور قہقہے لگاتے ہجوم کے درمیان میں سے انہیں ایک کھلی گاڑی پر سزائے موت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ چین کے شمال مغربی علاقے کاشغر میں سہ پہر کی روشن دھوپ میں کئی درجن مسلمان قیدی نیلی گاڑیوں پر قطار میں کھڑے تھے۔ ان کے حواس بجا نہیں تھے اور وہ اپنے ارد گرد سے تقریباً بے خبر تھے۔ ماؤزے تنگ کے ۱۰۰ فٹ اونچے مضبوط مجسمے کے نیچے کھڑے یہ قیدی، جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں...

افغانستان کے داخلی حالات پر ایک نظر

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں سے ہیں اور سائنس کے حوالے سے قرآنی علوم ومعارف کی اشاعت کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ ان دنوں افغانستان کی تعمیر نو اور وہاں سرمایہ کاری کے لیے مسلم صنعت کاروں اور تاجروں کو توجہ دلانے کی مہم میں سرگرم عمل ہیں اور اس مقصد کے لیے ’’امہ تعمیر نو برائے افغانستان‘‘ کے نام سے باقاعدہ گروپ قائم کر کے مساعی کو منظم کر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے حالیہ دورۂ افغانستان کے تاثرات ایک مضمون میں بیان...

گستاخِ رسولؐ کی سزا کا قانون

محمد اسلم رانا

قانون گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان والا تبار میں دل آزار بات کہنے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔ پاکستان کی مسیحی اقلیت اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ اسے انسانی حقوق کی مخالفت، آزادی فرد، فکر، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے عقائد و عبادات کی آزادی، مسلّمہ بین الاقوامی حقوق اور اقوام متحدہ کے منشور انسانی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے شخصی آزادی پر قدغن بتایا جاتا ہے۔ اس قانون نے مسیحیوں کو امتیازات کا نشانہ بنایا ہے اور انہیں دوسرے تیسرے درجہ کے شہری بنا کے رکھ...

توہینِ رسالت کے قانون پر ماڈرن خواتین کا اعتراض

ڈاکٹر عبد المالک عرفانی

حال ہی میں اسلام آباد میں خواتین کی تیس تنظیموں کے نمائندگان (لیگل فورم) نے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خواتین کے حقوق کو (ان کے خیال میں) متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطالبات کا ہدف اسلامی قوانین (بشمول حدود قوانین اور ازدواجی معاملات سے متعلق قوانین) ہیں اور انہوں نے ان کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتین کی یہ تنظیمیں مسلمان خواتین کی تنظیمیں ہیں اور وہ ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ماڈرن اور مغرب زدہ خواتین (جو صرف نام کی مسلمان ہوتی ہیں)...

تہذیبِ جدید یا دورِ جاہلیت کی واپسی

حافظ محمد اقبال رنگونی

’’فرانس میں ۱۹۸۰ء کی دہائی کے دوران جنم لینے والے بچوں کی ایک چوتھائی تعداد شادی کے بغیر پیدا ہوئی۔ قومی شماریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۸ء میں غیر شادی شدہ والدین کے ہاں دو لاکھ تیس ہزار بچے پیدا ہوئے جو کہ کل پیدائش کا چھبیس فیصد ہے۔ ۱۹۸۰ء میں یہ تعداد ۹۱ ہزار تھی۔‘‘ (روزنامہ جنگ ۔ ۱۱ فروری ۱۹۹۰)۔ برطانیہ کی اخلاقی حالت دیکھیئے: ’’برطانیہ میں اب ہر چار میں سے ایک بچہ غیربیاہتا والدین کے ہاں پیدا ہوتا ہے۔ مرکزی دفتر شماریات نے برطانوی معاشرے کے بارے میں سالانہ سروے میں بتایا کہ غیربیاہتا جوڑوں کے ہاں پیدائش کی شرح میں تیزی سے...

’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘

مولانا سراج نعمانی

خطیبِ شہیر مولانا حق نواز صاحب بھی شہید کر دیے گئے۔ آخرکیوں؟ اخبارات نے اس موضوع پر کالم لکھے، اداریے لکھے، مضامین اور خبروں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ماہنامہ اور ہفت روزہ رسائل میں تبصری، تجزیے اور اندازے تحریر ہو رہے ہیں۔ اس مضمون کی اشاعت تک لاہور میں عظیم الشان دفاعِ صحابہؓ کانفرنس اور تعزیتی احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہو چکا ہو گا جس میں جانشین امیر عزیمت مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی اپنی مستقبل کی پالیسیوں کی نشاندہی بھی کر چکے ہوں گے۔ لیکن ان تمام تر تجزیوں، تبصروں، تحریروں اور تقریروں کے باوجود مولانا حق نواز شہید کی اس شہادت سے...

عصرِ حاضر کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ

حافظ محمد اقبال رنگونی

کچھ عرصہ سے ایڈز نامی بیماری نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور مفکروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر مفکر اس کے سدباب کے لیے کوشاں ہے اور تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ اس پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی دوسری وجوہات سے قطع نظر تمام ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ لواطت پرستی اور غیر فطری عمل اس بیماری کو پیدا کرنے کا سبب ہے، اسی لیے تمام ہسپتالوں اور ٹی وی کے اشتہاروں میں خبردار کیا جاتا ہے کہ غیر فطری عمل سے اجتناب کیا...
< 51-71 (71)🏠
Flag Counter