حالات و مشاہدات
کورٹ میرج: چند قانونی اور معاشرتی پہلو
― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
ہمارے ہاں کورٹ میرج کا ایک عام تصور پھیلا ہوا ہے، حالانکہ اس کا نہ قانونی وجود ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ (البتہ ایک رائے کے مطابق non-believers یعنی غیر اہل ایمان کا چونکہ کوئی خاندانی نظام دویعت شدہ نہیں ہوتا، ان کے لیے بعض...
جہادِ کشمیر کی شرعی بنیادیں
― ڈاکٹر عصمت اللہ
تغیر، ارتقا اور تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی خاصہ ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ حرب و ضرب اور جنگ کے مفہوم میں بھی مرورِ ایام کے ساتھ کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ اب یہ لفظ کئی طرح کی مختلف النوع جنگوں پر بولا جاتا ہے، مثلاً معروف...
ایں آہِ جگر سوزے در خلوت صحرا بہ!
― محمد عمار خان ناصر
ڈاکٹر محمد فاروق خان بھی شہادت کے اس مقام پر فائز ہو گئے جو اس دنیا میں ایک مرد مجاہد کی سب سے بڑی تمنا ہو سکتی ہے۔ پچھلے تیس سال سے ہماری مذہبی اور عسکری قیادت ا س خطے میں جو کھیل کھیلتی چلی آرہی ہے، اس کے نتیجے میں مذہبی...
مادری زبانوں کا عالمی دن ۔ کیا ہم شرمندہ ہیں؟
― پروفیسر شیخ عبد الرشید
زبان فکر و خیال یا جذبے کے اظہارو ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ اس کاکام یہ ہے کہ لفظوں اور فقروں کے توسط سے انسانوں کے ذہنی مفہوم و دلائل اور ان کے عام خیالات کی ترجمانی کرے۔ Oliver Wendell Holmes کے مطابق: "Language is the blood of the soul into which thoughts...
دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
متحرک جماعتی زندگی سے کنارہ کشی کے بعد گزشتہ دو عشروں سے راقم الحروف دینی جدوجہد کے عصری تقاضوں اور دینی جماعتوں اور طبقات کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ نہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہے۔ معروضی حالات کے تناظر میں اس ’’صدائے...
مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۔ پاکستان میں موجودہ کشمکش کے بارے میں اور خاص طورپر طالبان کی قسم کے گروہوں کے سامنے آنے سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کے اسباب کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس میں پاکستانی ریاست، ایجنسیوں اور امریکا کا کیا کردار...
آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
― ڈاکٹر عبد القدیر خان
کشمیر کے مجوزہ حل کے بارے میں پرویز مشرف اور خورشید محمد قصوری نے کئی بیانات دیے ہیں اور یہ غلط تاثر دیا ہے کہ جیسے ہندوستان کشمیر کو پلیٹ پر رکھ کر ان کو دے رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ...
والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
― مولانا عبد الحق خان بشیر
حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے زیر سایہ و زیر تربیت ہم سب بہن بھائیوں نے اپنے اپنے ذوق و ظرف کے مطابق جو کچھ بھی حاصل کیا‘ وہی ہمارا اصل سرمایہ حیات ہے۔ اگر ہم اس سرمایہ کی حفاظت کر سکیں تو یقیناًہمارے لیے ہدایت و...
عالمی امن کے فروغ میں اہلِ قلم کا کردار
― پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین
’’ماضی کا فن کار ظلم و تشدد کے موقع پر کم از کم خاموشی اختیار کر سکتا تھا ۔ ہمارے اپنے زمانے میں جبرو تشدد نے اپنی شکل بدل لی ہے ، جب صورتِ حال یہ ہو تو فن کار خاموشی یا غیر جانب داری کیسے اختیا ر کر سکتا ہے؟ اسے کوئی نہ...
امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹؍ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ...
مذہبی رویے: چند اصلاح طلب امور
― ادارہ
ہمارے ملی ادارے جوکبھی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے تھے، آہستہ آہستہ ذاتی اورموروثی اداروں میں بدلتے جارہے ہیں۔ ہر ادارے کے منتظم کی یہ خواہش چھپی نہیں رہتی کہ ادارہ اس کی اولاد اور خاندان تک محدود ہو کر رہ جائے۔ یہ ساری...
مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور ایک نو مسلم کے تاثرات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران مجھے دو روز اسکاٹ لینڈ کے دار الحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ’’ڈنز‘‘ میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے ہاں گزارنے کا موقع ملا۔ رضوان کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دنوں تیسری بچی دی ہے اور...
عام انتخابات اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہیں۔ قاضی حسین احمد، عمران خان اور محمود خان اچکزئی کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے انتخابات کا بائیکاٹ...
وکلا تحریک کے قائدین کی خدمت میں چند معروضات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
چودھری اعتزاز احسن صاحب ہمارے ملک کے نامور وکلا اور معروف سیاست دانوں میں سے ہیں اور قومی حلقوں میں ان کا تعارف ایک شریف النفس، شائستہ اور دانش ور راہ نما کے طور پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس...
نسلی و مذہبی منافرت اور یورپی و عالمی قوانین
― آغا شاہی
یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلامؑ کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز کارٹونوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو مشتعل اور غضب ناک کردیا ہے۔ متعلقہ اخبارات کے مدیران آزادی اظہار کو اس ناپاک...
اسلام، مسلمان اور مغربی ذرائع ابلاغ
― ایم جے اکبر
اسلام اور مسلمانوں، خاص طور پر توانائی کی دولت رکھنے والے مسلم ممالک پر ایک زبردست فکری یلغار جاری ہے۔ پراپیگنڈے کی ایک آندھی ہے جس میں الزامات بڑی شاطرانہ مہارت سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات عوامی ذرائع ابلاغ کے...
’’برہمن‘‘ کی پختہ زناری بھی دیکھ
― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
بش اور بلیر اینڈ کمپنی کو ’’برابر کی چوٹ‘‘ کا اب تک کوئی نہ مل رہا تھا۔ یہ کمی بالآخر عراق میں فلوجہ کے ابو مصعب الزرقاوی نے پچھلے دنوں پوری کی۔ مگر افسوس کہ یہ کمی جس مقابلہ میں پوری ہوئی، اس میں بھی جیت کمپنی کی ہوئی۔...
موجودہ صورتحال اور علما کی ذمہ داری
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بعد الحمد والصلوۃ! سب سے پہلے جماعت الدعوۃ پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ اس محفل میں حاضری، آپ سے حضرات سے کچھ گزارشات پیش کرنے اور بہت سے علماے کرام کی گفتگو سننے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ جزاے خیر سے نوازیں اور ہم...
پاک بھارت اتحاد کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے خیالات
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء کے اخبارات کی شہ سرخیوں میں مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان شائع ہوا کہ پاک بھارت گول میز کانفرنس منعقد ہونی چاہیے جو اس امر کا جائزہ لے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے اس...
امریکہ کا حالیہ سفر اور چند تاثرات
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مجھے گزشتہ ماہ کے دوران دو ہفتے کے لیے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اس سال سہ ماہی اور شش ماہی امتحان یکجا کر دیے گئے اور سال کے درمیان میں ایک ہی امتحان رکھا گیا جس کے بعد دو ہفتے کی چھٹیاں...
امریکہ ۔ ہمارا دوست یا دشمن؟
― ڈاکٹر محمد فاروق خان
عالم اسلام کے اندر اس وقت اس سوال پر بڑی بحث ہو رہی ہے کہ آیا امریکہ پورے عالم اسلام اور بذات خود مذہب اسلام کو دشمن کی نظر سے دیکھتا ہے یا وہ درحقیقت عالم اسلام کا دوست ہے ۔یا پھر یہ کہ وہ عالم اسلام کا نہ دوست ہے نہ دشمن...
دیوبند اور جہاد
― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
دیوبند (دار العلوم دیوبند) ان دنوں بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ افغانی طالبان پر جو قہر گزشتہ دنوں ٹوٹا، ہماری (بی جے پی) حکومت نے اس موقع پر ہر کردنی وناکردنی اس خواہش کے ماتحت کی تھی کہ امریکہ بہادر کے ساتھ اس کے لیے بھی...
امریکی جارحیت کے محرکات
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
عالمی سیاست کے حقیقت پسند مکتبہ فکر کے مطابق کسی بھی قسم کی ’’قدریں‘‘ قومی مفاد کا جزو لا ینفک نہیں ہوتیں۔ مغربی ممالک کی عمومی نفسیات اسی مکتبہ فکر سے متاثر ہے لہٰذا ان ممالک میں قومی مفاد کو قدروں سے وابستہ کرنے...
عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
اکثر اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہمارے مذہبی معاشرے کے عوام سیاست میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس کے جواب میں دو نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں: مذہبی جماعتوں کا موقف یہ ہوتا ہے کہ انگریز کے ٹوڈی...
دار العلوم دیوبند اور دہشت گردی
― مولانا حبیب الرحمن قاسمی
دار العلوم دیوبند محض ایک دینی مدرسہ اور تعلیمی وتربیتی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی‘ علمی اور اصلاحی تحریک کا عنوان ہے جس نے ملت اسلامیہ کو فکر ونظر کی طہارت وپاکیزگی‘ قلب وجگر کو عزم واستقامت اور جسم وجان کو...
مجوزہ آئینی ترامیم کا ایک جائزہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
این آر بی کی طرف مجوزہ آئینی ترامیم منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کا پس منظر اور بنیاد صدر پاکستان کا وہ فرمان ہے جس کے مطابق انہوں نے واقعیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’طاقت‘‘ کے تین ستونوں کی نشان دہی کی ہے: صدر، وزیر...
سرحدی کشیدگی اور مغربی عزائم
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
اس وقت ساری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں۔ اس خطے کی سات بڑی ریاستوں میں سے دو ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ جنگ کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان‘ بھارتی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ورنہ...
پاکستان کے دینی حلقوں کا اصولی موقف
― ادارہ
۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد کانفرنس سنٹر لٹن روڈ لاہور میں روزنامہ پاکستان ویلغار کے زیر اہتمام ’’خلافت راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خان نے کی اور پاکستان...
امریکی اور برطانوی جارحیت۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
پہلی جنگ عظیم میں امریکی شمولیت کے حوالے سے جواز پیدا کرتے ہوئے وڈرو ولسن نے کہا تھا کہ اس طرح دنیا جمہوریت کے لیے محفوظ (Safe for democracy) ہو جائے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر شمالی امریکہ اور برطانیہ کے سامنے ایک موثر اور...
جنرل مشرف کا دورۂ امریکہ ۔ اور پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت
― پروفیسر شیخ عبد الرشید
جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ حکومتی توقعات کے مطابق اور عوامی توقعات کے برعکس مکمل ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا اور اپنے مقاصد میں کام یابی کی واضح...
افغانستان اور موجودہ عالمی صورت حال
― ادارہ
افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ اور ادارتی...
افغانستان میں امریکی پالیسی کا ایک جائزہ
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے اپنی نوعیت کے لحاظ سے حیران کر دینے والے تھے۔ عالمی سطح پر رائج رجحانات کے پس منظر میں یہ واقعہ ’’اپ سیٹ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے امریکہ کو فوجی، اقتصادی اور نفسیاتی...
چین میں مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت
― اولیور آگسٹ
مسلمان دہشت گردوں کا واسطہ کل سزائے موت دینے والے عملے (Death squad)سے تھا۔ شراب کے اثر سے ان کے حواس بجا نہیں تھے اور قہقہے لگاتے ہجوم کے درمیان میں سے انہیں ایک کھلی گاڑی پر سزائے موت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ چین کے شمال...
امریکی اِکسپوژر کی نئی جہتیں
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
جمہوریت کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق حقیقی جمہوریت اپوزیشن کی موجودگی سے مشروط ہے۔ کمیونسٹ ممالک پر اسی حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہ ان کے ہاں اپوزیشن مفقود ہے کیونکہ ان کے ہاں کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی...
امریکی معاشرہ۔ سوچ میں تبدیلی کی جانب گامزن
― ہَک گَٹمین
گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردی کے حملے، اس پر عالمی ردعمل، اور افغانستان پر (امریکی) بمباری کے بارے میں بہت سے تبصرے شائع ہو رہے ہیں۔ ان تبصروں میں سب سے زیادہ واضح اور تیز تبصرہ کسی کالم نگار نے نہیں کیا...
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا المیہ ۔۔ اصل گیم
― عبد الرشید ارشد
ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے المیے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے بلکہ اس سے پیدا شدہ صورتحال پربھی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ اس المیے کی تہہ میں چھپے طوفان پر شایدبہت ہی کم لوگوں کی نگاہ ہو گی۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کوئی جذباتی کارروائی...
امریکہ میں دہشت گردی: محرکات، مقاصد اور اثرات
― پروفیسر میاں انعام الرحمن
امریکہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں کون ملوث ہے، یہ واقعات کس کے ایما پر ہوئے، ان کے محرکات اور مقاصد کیا ہیں، اور ان واقعات سے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟ یہ چند سوالات ہیں جو آج کل تقریباً ہر ذہن میں پیدا ہو رہے...
پاکستانی معاشرے کی نئی دو قطبی تقسیم
― ڈاکٹر اسرار احمد
امریکہ میں دہشت گردی سے پیدا شدہ تشویشناک ہی نہیں خوفناک عالمی صورتحال کے نتیجے میں جہاں افغانستان اور طالبان کے لیے شدید خطرات اور اندیشے پیدا ہو گئے ہیں وہاں پاکستان بھی اپنی تاریخ کے مشکل ترین امتحان اور کٹھن آزمائش...
افغانستان کے داخلی حالات پر ایک نظر
― ڈاکٹر سلطان بشیر محمود
ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں سے ہیں اور سائنس کے حوالے سے قرآنی علوم ومعارف کی اشاعت کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ ان دنوں افغانستان کی تعمیر نو اور وہاں سرمایہ کاری کے لیے...
اور اب پاکستان میں بھی
― میجر (ر) ٹی ناصر
پاکستان پینل کوڈ ۳۷۷ یا تعزیراتِ پاکستان ۳۷۷ غیر فطری فعل کے خلاف ہے۔ یعنی ہم جنس پرستی، عورت سے غیر فطری فعل، اور جانور سے غیر فطری فعل قابلِ تعزیر جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان دفعہ ۳۷۷ ’’قوانین بائبل‘‘ یا حکمِ الٰہی...
امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ
― مولانا سخی داد خوستی
اسرائیل نے جب ۱۹۶۷ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو اس وقت کے اسرائیلی لیڈر موشی دایان نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے یروشلم پر قبضہ کر لیا اب ہم مدینہ منورہ اور بابل کی طرف بڑھنے والے ہیں۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ کے دروازہ پر...
سیکولرازم، عالمِ اسلام اور پاکستان
― بریگیڈیر (ر) شمس الحق قاضی
پاکستان کے لیے سیکولرازم کی حمایت کرتے ہوئے ایئرمارشل اصغر خان نے حالیہ اخباری بیان میں فرمایا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلام کو نکال دینا چاہیے تاکہ یہاں پر مکمل سیکولر معاشرہ قائم ہو سکے۔ واضح رہے کہ ماضی میں صدر ایوب...
پانی کا متوقع عالمی بحران اور استعماری منصوبے
― منو بھائی
یہ عالمی بینک کی پیشین گوئی نہیں دعوٰی ہے کہ آئندہ عالمگیر جنگ پانی کے تنازع پر ہو گی اور اگر خدانخواستہ اس میں ایٹمی اسلحہ استعمال ہوا تو یہ آخری انسانی جنگ بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ جس کو یاد رکھنے والا بھی کوئی نہیں بچے...
فیصلہ کن معرکہ
― حامد میر
حق اور باطل آہستہ آہستہ ایک فیصلہ کن معرکے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر وہ چاہیں بھی تو اس معرکے سےپہلو نہیں بچا سکتے۔ احادیث نبویؐ میں اس معرکے کی جو نشانیاں ملتی ہیں وہ تیزی کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم...
پوپ جان پال اور یہودیوں کے تعلقات پر ایک اہم رپورٹ
― ادارہ
ایک دفعہ سوویت رہنما جوزف اسٹالین نے رومن پوپ کا مذاق اڑاتے ہوئے سوال اٹھایا تھا ’’اس پوپ نے کتنوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے ان میں تفرقہ ڈلوا دیا ہے!‘‘۔ بعد میں جب مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستوں میں دراڑیں پڑنا شروع...
خواتین کی عالمی کانفرنسیں اور ان کے مقاصد
― راحیل قاضی
چند سال پہلے قاہرہ اور بیجنگ میں منعقد ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس کے بعد خواتین کے حقوق اور مرد و عورت میں مساوات کے عنوان سے اقوامِ متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی لابیوں کی مہم میں جو تیزی آئی ہے اس کے اثرات...
امارتِ اسلامی افغانستان اور ڈاکٹر جاوید اقبال
― ادارہ
علامہ اقبالؒ کے فرزند، سابق چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال گزشتہ دنوں افغانستان کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہاں طالبان کے طرزِ حکومت کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور وطن واپسی پر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں طلباء...
فری میسن تحریک اور اس میں شمولیت کا حکم
― ادارہ
رابطہ عالمِ اسلامی کی مجلسِ فقہی نے شعبان ۱۳۹۸ھ میں فری میسن تحریک میں شمولیت کے سوال کا جائزہ لیا اور اس پر مجلس کی جانب سے ایک جامع تبصرہ تحریر کیا گیا۔ اس کا ترجمہ میرپور آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا قاضی محمد رویس...
کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس
― میجر (ر) ٹی ناصر
گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں بے شمار خود ساختہ ’’پاسٹر‘‘ اور ’’بشپ‘‘ وجود میں آئے ہیں کہ پاکستانی کلیسیا اس معاملہ میں خود کفیل ہوئی بلکہ فاضل پاسٹر اور بشپ برآمد کرنے کے بھی قابل ہو...
| < | 51-100 (108) | > |