آراء و افکار

سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز ”مکالمہ“ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے...

نئی زمینوں کی تلاش

عاصم بخشی

(فلسفہ سائنس، سماجیات اور چارلس پرس کے منتخب مقالات کے اردو ترجمہ ’’نئی زمینوں کی تلاش’’ کا پیش لفظ)۔ مترجم کے تناظر سےترجمہ چاہے ادبی ہو یا تکنیکی دونوں صورتوں میں لازماًقرأتِ متن، تفہیمِ متن اور شرحِ متن کی ایک سہ جہتی سرگرمی ہوتا ہے۔ پہلی جہت ایک زبان کے طرزِ کلام کی دوسری زبان میں منتقلی، دوسری جہت متن کی مخصوص معنوی صورتوں کی مترجم کے پردۂ ذہن پر منتقلی اور تیسری جہت مترجم کی ان صورتوں میں ترجیح و انتخاب سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ تینوں جہتیں ترجمے کے دوران نہ صرف گڈ مڈ ہو جاتی ہیں بلکہ پس منظر میں اتنی مبہم ہو جاتی ہیں کہ عام...

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ...

غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رجب کے دوران ملک بھر میں بیسیوں مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا اور دینی مدارس کے مختلف النوع اجتماعات میں شرکت کے علاوہ متعدد ارباب علم و دانش کے ساتھ بعض علمی و فکری مسائل پر تبادلہ خیالات کا موقع ملا، ان میں سے ایک اہم اور نازک مسئلہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں بعض اہل علم کے فتویٰ کی بات بھی تھی جس کے بارے میں احباب نے میرا موقف معلوم کرنا چاہا۔ متعدد دوستوں کے ساتھ کی گئی متفرق گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جانؒ کی روح اور قبر پر جن سے طویل...

درک ’’درِ ادراک‘‘

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

مسیحیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے، لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندؤوں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ مسیحیت کی غیر فطری تعلیمات کے ردِ عمل میں پروان چڑھنے والے مغربی فکرو فلسفہ میں یورپ کے ارباب فکر ودانش نے مادہ پرستی کی رو میں بہتے ہوئے نہ صرف روح کے ہر تقاضے کو نظر انداز کر دیا بلکہ روح ہی کا انکار کر...

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۴ جنوری ۲۰۱۸ء کو مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی میں علماء کرام کی ایک نشست سے خطاب کا خلاصہ۔) بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی...

تکفیر کی اتھارٹی، علماء یا حکومت؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سوال ان دنوں کم و بیش ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟ اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔...

فقہاء اور مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالۃ کا فرق

عدنان اعجاز

محترم زاہد صدیق مغل صاحب کی مذکورہ بالا عنوان کی حامل تحریر نظر سے گزری (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔ مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالہ کے فقہا کے تصور سے تقابل کے ذریعے زاہد صاحب نے اس میں یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ ’’فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔‘‘ میری نظر میں ایسی تحاریر موضوع سے متعلق الجھنوں کو رفع کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اس لیے ایسے مواقع ضائع نہیں ہونے دینے چاہئیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے دیے گئے اہم دلائل ان الفاظ میں بیان...

تعبیر قانون کے چند اہم مباحث

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔) پہلا سوال: عبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! جہاں قانون بظاہر خاموش ہو۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ...

نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیت

محمد عمار خان ناصر

سوالات۔ نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اور اس کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید وتعیین اور تعمیم کے مسئلے پر ذہن کافی الجھا ہوا ہے۔ رہ نمائی فرمائیں۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس کون سے ایسے قطعی اصول ہیں جن کی رو سے ہم بعض احکام کو عہد رسالت کے ساتھ خاص اور بعض کو عمومی مانیں گے؟مولانا اصلاحی کے ہاں "تدبر قرآن" میں تخصیص کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو غامدی صاحب کے ہاں اور آپ کی کتاب "جہاد ایک مطالعہ" میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی جہاد کی کتاب میں "خیر امت" کے خطاب کی بھی مجھے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صرف عہدِ...

فطرت بطور معیار کی بحث

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔ فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان...

امام ابو حنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصول

محمد عمار خان ناصر

(۱۹ جنوری ۲۰۱۷ء کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ فکر اسلامی کے زیر اہتمام ’’خطبات اسلام آباد‘‘ کے زیر عنوان لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو کے بنیادی نکات۔) ۱۔ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو قرآن وسنت کے مقرر کردہ حدود میں اور ان کی منشا کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شارع کے منشا کو عملی حالات پر منطبق کرنے اور بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کا وظیفہ بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے اور ایک طرف قرآن وسنت کی منشا اور دوسری طرف پیش آمدہ مخصوص صورت...

مباحث فطرت و اخلاق: بحث کیا ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل

"فطرت بطور ماخذ" کی بحث میں فطرت کے ماخذ ہونے کا انکار کرنے والے گروہ پر نقد کرتے ہوئے مختلف احباب غیر متعلق و غلط فہمیوں پر مبنی استدلال پیش کرتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت کردی جائے تاکہ نفس موضوع و بحث واضح ہوسکے اور کم از کم گفتگو تو اصل مدعے پر ہوا کرے۔ پہلی غلطی: اس ضمن میں پہلی غلطی یہ سوال ہوتا ہے: تو کیا آپ اسلام کو دین فطرت نہیں مانتے، یہ بات تو نصوص کے خلاف ہے؟ پھر چند نصوص پیش کرکے یہ ثابت کرنا شروع کردیا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کی ایک فطرت بنائی ہے وغیرہ۔ تبصرہ: یہ سوال اور...

اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردار

محمد عمار خان ناصر

مذاہب عالم کی تعلیمات میں آزادئ مذہب کا اصول اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم جس قدر وضاحت اور تاکید کے ساتھ اسلام میں ملتی ہے، کسی دوسری جگہ شاید نہیں ملتی۔ مسلم فقہاء نے اسی تعلیم کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کے شہری ومذہبی حقوق کے تحفظ سے متعلق نہایت واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کیے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب علماء وفقہاء نے اللہ کے پیغمبر کی وراثت اور نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے اقلیتی گروہوں پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور زیادتی کی تلافی کے لیے حتی الوسع...

اختلاف رائے اور رواداری ۔ اکابرین امت کے اسوہ کی روشنی میں

مولانا محمود خارانی

علم و تحقیق کے سفر میں اختلاف رائے ایک ناگزیر امر ہے جو تحقیق و جستجو کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مسائل و مباحث کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، تحقیق طلب امور کے نئے گوشے وا ہوتے ہیں، فکر و نظر کے نئے زاویے کھل جاتے ہیں۔ مگر اس اختلاف رائے میں ان سلف صالحین اور اکابرین امت کا درخشاں طرز واسلوب اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے جن کے منہج و طرز فکر سے وابستگی دینی طبقے میں ایک لازمی امر کے طور پر متعارف ہے۔ یہ بجا طور پر آج کے پرفتن دور میں ایک محتاط اور قابل تحسین حکمت عملی ہے۔ دینی طبقہ کے "اکابر سے وابستگی" کے اس رجحان کے...

اسلامی دنیا میں عقلی علوم کا زوال ۔ عہد زریں اور عہد تاریک کا افسانہ

پروفیسر اسد احمد

(پروفیسر اسد کیو احمد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے منسلک ہیں۔ پیش جدیدی مسلم معاشروں کی سماجی اور فکری تاریخ ان کی تحقیق کے خاص میدان ہیں۔ یہ تحریر اکتوبر 2013ء کی ہے۔ مترجم)۔ کوئی دو ماہ قبل مجھے امیریکن اسلامک کانگریس نامی ایک این جی او کی طرف اسلام اور سائنس کے موضوع پر ایک مباحثے میں شمولیت کی دعوت ملی۔ مجھے بتایا گیا کہ اس میں میرے ساتھ ایک پاکستانی عوامی اسپیکر بھی شرکت کریں گے (یہ اسپیکر پروفیسر ہودبھائی تھے۔ مترجم) جو اسلامی فکر کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مسلم دنیا میں سائنس اور دوسرے عقلی علوم کی اشاعت و ترویج کے لیے کوشاں...

علمِ سماجیات : دعوت نامے کی باز طلبی؟

پیٹر برجر

زندگی کے اس موڑ پر ایک ماہر سماجیات کے طور میرے تشخص میں ایسا کچھ خاص داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ اگر علمی تخصص کی بابت پوچھا جائے تو میں خود کو ماہر سماجیات ہی کہوں گا، لیکن اِس تخصیص کا اِس سے کچھ خاص لینا دینا نہیں جو میں کرتا ہوں یا خود کو سمجھتا ہوں۔ میں اِس علمی دائرے سے منسلک محققین کے کام پر سرسری توجہ ہی دیتا ہوں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ بھی میرے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال کچھ ایسی بری بھی نہیں۔لیکن مجھے کبھی کبھار یاد آتا ہے کہ میں اپنی پرجوش جوانی میں دوسروں کو کافی جذباتی انداز میں اپنی تحریروں (جو خوش قسمتی سے آج بھی...

مختلف نظام ہائے قوانین کے اصولوں میں تلفیق : چند اہم سوالات

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(کسی ایک فقہی مذہب کی پابندی اور مختلف مذاہب کے مابین تلفیق کے حوالے سے فیس بک پر ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی توضیحات۔)۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ میرے استاد محترم نیازی صاحب اور مجھے تلفیق پر جو اعتراض ہے، وہ اس بات پر نہیں ہے کہ مختلف مذاہب سے آرا کیوں اکٹھی کی جارہی ہیں؟ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آرا اکٹھی کی جارہی ہیں یہ فکر کیے بغیر کہ ان آرا کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں، وہ آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر اصولی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے اور اصولی تضادات دور کیے جائیں ، تو بے شک آرا اکٹھی کرکے نئی رائے قائم کی جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں...

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت ۔ تکفیری مکتب فکر کے ایک اہم استدلال کا تنقیدی جائزہ

محمد عمار خان ناصر

موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہمارے ہاں سب سے پہلے غالباً انگریزی دور اقتدار میں جنگ عظیم اول کے موقع پر اس وقت پیش کیا گیا جب برطانوی فوج میں شامل مسلمانوں کے لیے ترکی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا سوال سامنے آیا۔ تحریک خلافت کے قائدین نے اس پر ایک سخت...

اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات

ڈاکٹر محمد ریاض محمود

(شعبہ علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۰، ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ’’معاصر مسلم معاشروں کو درپیش فکری تحدیات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس کے لیے لکھا گیا۔)۔ اسلام روحانی اورمادی اعتبارسے ایساانسان دوست دین ہے جس میں تمام طبقات کے لئے امن،محبت، ترقی، خوشحالی، رواداری اوراحترام کی ہدایات ملتی ہیں۔(۱) یوں اسلامی فکروفلسفہ سے وابستہ کسی بھی سیاسی،معاشی یاسماجی نظام میں ظلم، تعصب،جانبداری، حق تلفی یاکسی قسم کے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی اعلیٰ ظرفی اور شانداربصیرت کی کرشمہ سازی تھی کہ مختلف ادوارمیں قائم...

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

اسلامی شریعت میں خواتین کے لیے پردے سے متعلق کیا احکام دیے گئے ہیں؟ مرد وزن کے میل جول کے ضمن میں وہ کون سے حدود وآداب ہیں جن کی پابندی شرعاً ضروری ہے؟ خواتین اجنبی مردوں کے سامنے اپنا چہرہ ننگا کر سکتی ہیں یا نہیں؟ جب عورت کا چہرہ ہی جسم کا سب سے زیادہ پرکشش حصہ ہوتا ہے تو کیا فتنے سے بچنے کے لیے اس کو چھپانا ضروری نہیں ہونا چاہیے؟ ذیل کی سطور میں ہم ان سوالات کے حوالے سے اپنے فہم کے مطابق اسلامی شریعت کے زاویہ نظر کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسلامی شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی معاملے کے صرف ایک پہلو کو مد نظر رکھ کر احکام طے نہیں کرتی، بلکہ...

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں کے باہمی روابط

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے باہمی روابط کا معاملہ ان دنوں اعلیٰ سطحی دیوبندی قیادت کے ہاں زیر بحث ہے اور ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے گذشتہ شمارے میں صدر وفاق مولانا سلیم اللہ خان نے جبکہ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کے حالیہ اداریے میں مولانا عزیز الرحمن نے اس ضمن میں اپنے خدشات وتحفظات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ بحث کا فوری تناظر دو واقعات ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دینی جامعہ میں کسی غیر ملکی تنظیم کے اشتراک سے ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مبینہ طور پر کچھ ایسی باتیں کہی گئیں جن سے دینی قیادت کے مسلمہ اعتقادی موقف پر زد پڑتی ہے۔ دوسرے یہ...

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد ارشد

۶: عورت کی سربراہی۔ وہ واحد دستوری مسئلہ جس کی بابت اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر (دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی) کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کثرت سے دستیاب ہیں وہ مسئلہ عورت کی حکمرانی کا ہے۔ اس امر پر تینوں مکاتب فکر کے ہاں ایک طرح کا اجماع پایا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اسلامی مملکت ؍حکومت کے سربراہ کا مرد از روئے شریعت مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔ اسلامی مملکت میں سربراہی کے منصب کی ذمہ داریاں کسی خاتوں کو سونپی نہیں جا سکتیں۔ لہٰذا کسی اسلامی حکومت میں...

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں / مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

محمد عمار خان ناصر

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں۔ اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت کے منفی رجحانات سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح مذہبی تعلیمات کا موضوع بنے۔ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ نے بھی عرب معاشرے کے تین پسے ہوئے اور مظلوم طبقوں، یعنی غلام لونڈیوں، عورتوں...

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۱)

ڈاکٹر محمد ارشد

برعظیم پاکستان و وہند میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق بعض مسائل، با لخصوص خلیفہ کی اہلیت کے شرائط (قرشیت وغیرہ) ، سے متعلق علماء کے ہاں بحث و مباحثہ کا آغازتحریک خلافت کے دنوں میں (۱۹۱۸۔۱۹۲۲ء) ہوا۔ تحریک خلافت کے مخالف علماء نے ترکانِ عثمانی کی خلافت کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا، کہ ان کی نظر میں عثمانی خلفاء منصب خلافت کی ایک اساسی شرط، شرط قرشیت کو پورا نہ کرتے تھے (۱)۔ جب کہ تحریک خلافت کے حامی و مؤید علماء نے عثمانی خلافت کو شرعی طور پر جائز تسلیم کیا اور شرطِ قرشیت کی ایک مختلف تعبیر پیش کی(۲) ۔تحریک خلافت کے مخالف علماء...

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال

محمد عمار خان ناصر

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر۔ انگریزی دور اقتدار میں برصغیر کی اقوام جمہوریت کے جدید مغربی تصور سے روشناس ہوئیں اور برطانوی حکمرانوں نے اسی تصور کے تحت ہندوستان کے سیاسی نظام کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کا آغاز کیا تو یہاں کی دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین باہمی بے اعتمادی کی وجہ سے اپنے سیاسی اور اقتصادی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے کشمکش اور تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی جس نے آگے چل کر ایک باقاعدہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر لی۔ اس صورت حال کے تجزیے اور ممکنہ حل کی تجویز میں مسلمان قیادت بھی باہم مختلف الرائے...

اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب

مولانا محمد عیسٰی منصوری

تمام انسانی تہذیبیں اور ثقافتیں زندہ مخلوق (نامیاتی اجسام) کے مانند ہوتی ہیں۔ جس طرح ہر جاندار مخلوق زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، پھر موت، یہی حال تمام انسانی تہذیبوں کا ہے۔ تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں، عروج پاتی ہیں، پھر زوال کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہیں۔ دنیا کی جتنی بھی تہذیبیں ہیں، وہ تین چیزوں کا ملغوبہ ہوتی ہیں (۱) وہ گزشتہ تہذیبوں کے کھنڈرات پر قائم ہوتی ہیں یعنی گزشتہ تہذیبوں کے بچے کھچے آثار و باقیات یا تلچھٹ۔ (۲) ہر تہذیب کسی آسمانی وحی یا کچھ مفکرین و دانشوروں کے تصورات و افکار پر مبنی ہوتی ہیں۔ (۳) ہر تہذیب پر خطہ...

کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ

محمد زاہد صدیق مغل

کچھ روز قبل فیس بک پر خاندانی نظام کے غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کوئی اسلامی دلیل موجود ہی نہ تھی۔ اس تحریر کے استدلال کی کل بنیاد "بڑے بھائی پر ہونے والے مظالم" کا حوالہ تھی کہ اس پر خاندان کا بار گراں زیادہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر تحریر میں خاندانی نظام کو اس کے وسیع تر معاشرتی و سیاسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے اور جدید مارکیٹ سوسائٹی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مسئلے کے اس پہلو کو عام طور پر نظر انداز کرکے خاندانی نظام پر گفتگو کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں اس کی کچھ تفصیلات دی جاتی ہیں۔ آج دنیا میں جس پیمانے پر...

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

تیسرا سبب :عراق میں رائے و اجتہاد کی کثرت اور حجاز میں قلت۔ اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم کا ایک اہم سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عراق میں اجتہاد اور رائے کا استعمال بہت زیادہ تھا ،چنانچہ اہل عراق کثرت سے اصولوں پر تفریع کر کے نئے مسائل کا استنباط کرتے، مسائل کو فرض کر کے اس کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے برعکس حجاز میں رائے و اجتہاد کی بجائے حدیث کی تعلیم زیادہ ہوتی تھی ، اہل حجاز صرف پیش آمدہ مسائل کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ،اور بغیر ضرورت کے تفریعات کرتے اور نہ ہی مسائل کو فرض کر کے اس پر بحث کرتے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عراق رائے...

مکالمہ کیوں ضروری ہے؟ / مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو / قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ

محمد عمار خان ناصر

کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو۔ مختلف معاشرتی عناصر کے مابین فکر وعمل کی ترجیحات میں اختلاف پایا جا سکتا ہے اور کئی حوالوں سے مفادات کا تصادم بھی موجود ہو سکتا ہے، تاہم معاشرے کے مجموعی مفاد کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مشترک اور بنیادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اختلافات کو باہمی تعلقات کا عنوان نہ بننے دیا جائے اور مجموعی معاشرتی نظم تنوع اور اختلاف کے تمام تر مظاہر کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھے۔...

مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

عاصم بخشی

’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دوقسم کے فکری دھارے دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ ہیں جو اپنے علمی منہج کو غزالی سے منسوب کر کے ’تہافت الفلاسفہ‘ میں مشغول ہیں اور ’جدید مغربی تہذیب‘ نامی کسی ایک ٹھوس اکائی کو نظریاتی طور پراپنے مقابل فرض کر کے اس سے جہاد کا فریضہ انجام دے...

فقہاء و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا فرق

محمد زاہد صدیق مغل

اس مختصر نوٹ میں فقہائے کرام و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا موازنہ کیا جائے گا جس سے معلوم ہوگا کہ فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالۃ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔ قطعی الدلالۃ کے معنی میں ابہام۔ فقہاء کا ماننا یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیات کے معنی ایک ہی درجے میں واضح نہیں بلکہ معنی کا وضوح مختلف درجوں میں ہوتا ہے۔ آیات کے معنی واضح ہونے کے اعتبار سے فقہاء انہیں دو عمومی قسموں میں بانٹتے کرتے ہیں: (ا) واضح الدلالۃ (جس کی دلالت، سمجھنے کے لیے واضح و آسان ہے)۔ (2) خفی الدلالۃ (جس کی دلالت...

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

...

’’کافر‘‘ یا ’’غیر مسلم‘‘؟ چند توضیحات

مولانا محمد تہامی بشر علوی

جو انسان حق کو جانتے بوجھتے ماننے سے انکار کر دے، وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے، ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بھی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے، اسے قرآن مجید "مومنین" سے تعبیر کرتا اور ابدی جنت کی بشارت دیتا ہے۔ تمام...

جمہوریت اور حاکمیت عوام ۔ چند منطقی مغالطے / غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول / آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصور

محمد عمار خان ناصر

جمہوریت کو ’’حاکمیت عوام‘‘ کے نظریے کی بنیاد پر کفریہ نظام قرار دینے اور حاکمیت عوام کو اس کا جزو لاینفک قرار دینے والے گروہ کی طرف سے ایک عامۃ الورود اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ جمہوریت میں اگر دستوری طور پر قرآن وسنت کی پابندی قبول کی جاتی ہے تو اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ خدا کا حکم ہے جس کی اطاعت لازم ہے، بلکہ اس اصول پر کی جاتی ہے کہ یہ اکثریت نے خود اپنے اوپر عائد کی ہے اور وہ جب چاہے، اس پابندی کو ختم کر سکتی ہے۔ اس لیے دستور میں اس کی تصریح کے باوجود جمہوریت درحقیقت ’’حاکمیت عوام‘‘ ہی کے فلسفے پر مبنی نظام ہے۔ اس استدلال کے دو نکتے ہیں...

ہم عصر الحاد پر ایک نظر

محمد دین جوہر

دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف، اس کے اقرار، اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً، مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصورِ خدا سے انکار بھی کر دیا جائے، تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں ’’خدا‘‘ ایک عقلی مسئلے کے طور پر پھر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو ’’حل‘‘ کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل ہی میں ایک ’’مجہول الٰہ‘‘ (deity) کا تصور دیا تھا...

مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ / ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟

محمد عمار خان ناصر

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کا شمار عصر حاضر کے ان ممتاز مفکرین میں ہوتا ہے جنھوں نے بطور ایک اجتماعی نظام کے، اسلام کے تعارف پر توجہ مرکوز کی اور مختلف پہلووں سے اس بحث کو تحقیق وتصنیف کا موضوع بنایا۔ مولانا کی دینی فکر میں اسلامی ریاست کا قیام، جس کو وہ اپنی مخصوص اصطلاح میں ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کا عنوان دیتے ہیں، بے حد اساسی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے ایک اجتماعی فریضے کا درجہ دیتے ہیں۔ اسلام چونکہ محض پوجا اور پرستش کا مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی میں مخصوص اعتقادی واخلاقی اقدار اور متعین احکام وقوانین کی عمل داری کو بھی...

مسلم حکمرانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ دوستیاں / اختلاف اور منافرت / جدید مغربی فکر اور تہذیبی رواداری

محمد عمار خان ناصر

تکفیری گروہ کی طرف سے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کے حق میں یہ نکتہ بھی شد ومد سے اٹھایا جاتا ہے کہ ان حکمرانوں نے بین الاقوامی تعلقات کے دائرے میں کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کر رکھی ہیں اور بہت سے معاملات میں یہ دوستیاں اور تعلقات مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کردار ادا کرتی ہیں۔ اس ضمن میں عموماً قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے جن میں میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر کے ساتھ دوستی اختیار نہ کریں اور جو ایسا کریں گے، ان کا شمار انھی میں ہوگا۔ (آل عمران ۳:۲۸ و ۵۱)۔ قرآن مجید میں ان ہدایات کا سیاق وسباق پیش...

توہین رسالت کی سزا اور مولانا مودودیؒ کا موقف

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ ۔ ۱۹۷۹) بیسویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور مفکر تھے۔ ان کی فکر اور دینی تعبیر نے نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ آئندہ سطور میں ہم توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اپنی کتاب ’الجہاد فی الاسلام‘ میں ذمیوں (یعنی غیر مسلموں )کے حقوق بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمان کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنایا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنابھی اس...

سود، کرایہ و افراطِ زر : اصل سوال اور جواب کی تلاش

محمد انور عباسی

الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں محترم مغل صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اپنے موضوع پر ایک جاندار اور عام ڈگر سے ہٹا ہوا اور سوچ کو ابھارنے والا مضمون دیکھنے کو ملا۔ یہ جریدہ اس لحاظ سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں ہر ماہ ہی اہل علم کی فکر انگیز تحریریں ملتی ہیں جو ذہن کو جلا بخشتی ہیں۔ ہر وہ تحریر ، حتیٰ کہ ایک جملہ بھی،قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کے قابل ہے جو کسی بھی لحاظ سے مکالمے پر انگیز کرے۔ کبھی کبھی یہ خواہش شدید تمنا کا روپ دھار لیتی ہے کہ ملک عزیز کے دیگر رسائل و جرائدبھی یہی رویہ اپنائیں اور اپنے ہاں اس طرح کے مکالمے پر ابھارنے والی...

غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا ’’عذاب‘‘

محمد عمار خان ناصر

تکفیری نقطہ نظر کے حاملین کی طرف سے حکمران طبقات کے کفر وارتداد کے ضمن میں ایکبڑی نمایاں دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ انھوں نے مسلمان ممالک میں شریعت اسلامیہ کے بجائے غیر شرعی نظاموں اور قوانین کو نافذ کررکھا ہے اور مسلمانوں کے معاملات احکام شرعیہ سے بغاوت کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ موجودہ مسلم ممالک میں اجتماعی نظام کلی طور پر شریعت اسلامیہ کی ہدایات پر استوار نہیں اور معاشرت، معیشت اور سیاست کے دائروں میں شرعی احکام وقوانین کی پاس داری نہیں کی جا رہی۔ اگرچہ بیشتر مسلم ممالک میں اصولی طور پر آئین میں شریعت...

مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت

مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

(چند سال قبل برصغیر کے نامور محقق اور مورخ حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مدظلہ (مدیر سہ ماہی ’’احوال وآثار’’ کاندھلہ ، انڈیا) الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کے افتتاح کے موقع پر اکادمی میں تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے حسب ذیل گفتگو فرمائی جسے ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے صفحہ قرطا س پر منتقل کیا گیا ہے۔ مدیر)۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ علمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما۔ الحکمۃ ضالۃ المؤمن۔ حضرت مولانا دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی عیسٰی صاحب مدظلہ العالی۔ میں یقیناًاس لائق نہیں ہوں کہ جس طرح کے کلمات خیر...

عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ

محمد زاہد صدیق مغل

جدید لسانیاتی مباحث اپنی وضع میں پوسٹ ماڈرن مباحث سے ماخوذ ہیں۔ ان مباحث کی رو سے الفاظ کے تمام تر اطلاقات اور معانی معاشرتی ماحول اور نفس کی کیفیاتی تناظر کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس فلسفے کے زور پر فلسفہ لسانیات کے ماہرین الہامی کتب کی نہ صرف آفاقیت پر سوال کھڑا کرتے ہیں بلکہ الہامی کتب سے منسوب کسی بھی قسم کی قطعی معنویت کا انکار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر کسی بھی لفظ اور عبارت کا معنی قطعی نہیں تو نصوص میں بیان کردہ حلال حرام اور اچھائی برائی کا کیا معنی، وہ بھی رہتی دنیا تک؟ اسی فکری منہج کے حوالے سے چند روز قبل فیس بک پر ایک کالم "مذہب پر عصری...

کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟ مولانا شیرانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں

مولانا غلام محمد صادق

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ہمارے لیے قابل احترام علمی شخصیت محترم حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے۔ مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے۔ (روزنامہ اسلام ۳۱ جنوری ۲۰۱۶ء) اس پر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔...

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا عنوان تھا ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہاد کی تعریف، قوت نافذہ اور اس کے بنیادی عناصر‘‘۔ کانفرنس کی دوسری نشست میں کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیرصدارت کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ نذر قارئین کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی سرگرمیوں کے حوالہ سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد حکومت اور پارلیمنٹ کو رائج الوقت اور مجوزہ...

قانون اور حقوق نسواں

محمد دین جوہر

دو انسانوں کے درمیان ہر رشتے کے صرف دو ہی سرے نہیں ہوتے، بلکہ تین کونے ہوتے ہیں۔ تیسرے کونے پر اگر خدا ہو تو وہ رشتہ اخلاقی ہوتا ہے اور اگر ریاست ہو تو وہ رشتہ قانونی ہوتا ہے۔ قانونی ہوتے ہی انسانی رشتے کا ہر طرح کی اقدار سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی انسانی رشتہ بیک وقت قانونی اور اخلاقی نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اخلاقی رشتوں کا اصل دائرہ خونی رشتے اور ہمسائیگی ہے۔ اچھی معاشرت انہی اخلاقی رشتوں سے وجود میں آتی ہے۔ اگر سارے انسانی رشتے قانونی ہو جائیں تو معاشرت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اخلاقیات معاشرے کا مسئلہ ہے اور قانون ریاست کا۔ ریاست گلی...

تعمیر معاشرہ اور احتجاج و مخاصمت کی نفسیات

محمد عمار خان ناصر

دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سوچ کو عمومی طور پر اس طرز فکر کے حامل عناصر کے بعض اقدامات مثلاً خود کش حملوں وغیرہ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی اوسط سطح کے باخبر آدمی سے دہشت گردی کی سوچ کے متعلق سوال کیا جائے تو غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہ وہ سوچ ہے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور لوگوں کے اموال واملاک کو تباہ کرنے کو نیکی کا کام سمجھتی ہے۔ تاہم فکری سطح پر اس سوچ کا تجزیہ کرنے کے لیے مذکورہ تعریف ناکافی ہے، کیونکہ خون بہانا اور اموال واملاک کی تباہی اصل فکر نہیں، بلکہ اس فکر کا ایک نتیجہ اور ایک اظہار ہے۔ انتہا پسندی یا...

تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات

محمد مشتاق احمد

اصولی گزارشات۔ پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں: ۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف شکایت ملے تو قاضی کو شوہر سے بازپرس اور اس کے پڑوسیوں کے ذریعے تحقیق کا حق ہے اور نتیجتاً وہ شوہر کی مناسب تادیب بھی کرسکتا ہے۔ پس اس موقف سے گریز ہی بہتر ہے کہ نظمِ اجتماعی کو خاندان کے نجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہوں گا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم...

جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات

محمد عمار خان ناصر

جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات۔ اہل دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انبیا کی نیابت کرتے ہوئے دین کے پیغام کو معاشرے تک پہنچائیں، دین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں اور شکوک وشبہات کو دور کریں اور دینی واخلاقی تربیت کے ذریعے سے معاشرے کو درست نہج پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کا سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اپنے معاشرے اور ماحول کے لیے اہل دین کا رویہ سر تا سر ہمدردی اور خیر خواہی پر مبنی ہو اور اس میں حریفانہ کشاکش اور طبقاتی وگروہی نفسیات کارفرما نہ ہو۔ انسانی معاشرے میں یہ کردار ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ...

حل تنازعات کے طریقے سیرت نبوی کی روشنی میں

محمد حسین

تنازعات کا علم جدید سماجی علوم میں بہت ہی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ یہ ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دنیا بھر کی یونیور سٹیوں اور تحقیقاتی و پالیسی ساز اداروں میں اس پر تدریسی و تحقیقی پروگرامات اور مطالعات اور تحقیقات کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے۔ اس علمی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں تنازعات کے تجزیات، اصول، اساب و اثرات، مراحل و صورتیں اور تنازع سے نمٹنے کے اسالیب اور تنازع کے نتائج پر بہت کام کیا جا چکا ہے اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ دنیا میں اس وقت جاری تنازعات یا تو مسلم ممالک میں ہیں یا ان سے مسلمان وابستہ ہیں، اس...
< 51-100 (403) >
Flag Counter