آراء و افکار

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا عنوان تھا ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہاد کی تعریف، قوت نافذہ اور اس کے بنیادی عناصر‘‘۔ کانفرنس کی دوسری نشست میں کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیرصدارت کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ نذر قارئین کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی سرگرمیوں کے حوالہ سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد حکومت اور پارلیمنٹ کو رائج الوقت اور مجوزہ...

قانون اور حقوق نسواں

محمد دین جوہر

دو انسانوں کے درمیان ہر رشتے کے صرف دو ہی سرے نہیں ہوتے، بلکہ تین کونے ہوتے ہیں۔ تیسرے کونے پر اگر خدا ہو تو وہ رشتہ اخلاقی ہوتا ہے اور اگر ریاست ہو تو وہ رشتہ قانونی ہوتا ہے۔ قانونی ہوتے ہی انسانی رشتے کا ہر طرح کی اقدار سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی انسانی رشتہ بیک وقت قانونی اور اخلاقی نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اخلاقی رشتوں کا اصل دائرہ خونی رشتے اور ہمسائیگی ہے۔ اچھی معاشرت انہی اخلاقی رشتوں سے وجود میں آتی ہے۔ اگر سارے انسانی رشتے قانونی ہو جائیں تو معاشرت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اخلاقیات معاشرے کا مسئلہ ہے اور قانون ریاست کا۔ ریاست گلی...

تعمیر معاشرہ اور احتجاج و مخاصمت کی نفسیات

محمد عمار خان ناصر

دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سوچ کو عمومی طور پر اس طرز فکر کے حامل عناصر کے بعض اقدامات مثلاً خود کش حملوں وغیرہ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی اوسط سطح کے باخبر آدمی سے دہشت گردی کی سوچ کے متعلق سوال کیا جائے تو غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہ وہ سوچ ہے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور لوگوں کے اموال واملاک کو تباہ کرنے کو نیکی کا کام سمجھتی ہے۔ تاہم فکری سطح پر اس سوچ کا تجزیہ کرنے کے لیے مذکورہ تعریف ناکافی ہے، کیونکہ خون بہانا اور اموال واملاک کی تباہی اصل فکر نہیں، بلکہ اس فکر کا ایک نتیجہ اور ایک اظہار ہے۔ انتہا پسندی یا...

تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات

محمد مشتاق احمد

اصولی گزارشات۔ پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں: ۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف شکایت ملے تو قاضی کو شوہر سے بازپرس اور اس کے پڑوسیوں کے ذریعے تحقیق کا حق ہے اور نتیجتاً وہ شوہر کی مناسب تادیب بھی کرسکتا ہے۔ پس اس موقف سے گریز ہی بہتر ہے کہ نظمِ اجتماعی کو خاندان کے نجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہوں گا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم...

جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات

محمد عمار خان ناصر

جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات۔ اہل دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انبیا کی نیابت کرتے ہوئے دین کے پیغام کو معاشرے تک پہنچائیں، دین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں اور شکوک وشبہات کو دور کریں اور دینی واخلاقی تربیت کے ذریعے سے معاشرے کو درست نہج پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کا سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اپنے معاشرے اور ماحول کے لیے اہل دین کا رویہ سر تا سر ہمدردی اور خیر خواہی پر مبنی ہو اور اس میں حریفانہ کشاکش اور طبقاتی وگروہی نفسیات کارفرما نہ ہو۔ انسانی معاشرے میں یہ کردار ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ...

حل تنازعات کے طریقے سیرت نبوی کی روشنی میں

محمد حسین

تنازعات کا علم جدید سماجی علوم میں بہت ہی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ یہ ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دنیا بھر کی یونیور سٹیوں اور تحقیقاتی و پالیسی ساز اداروں میں اس پر تدریسی و تحقیقی پروگرامات اور مطالعات اور تحقیقات کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے۔ اس علمی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں تنازعات کے تجزیات، اصول، اساب و اثرات، مراحل و صورتیں اور تنازع سے نمٹنے کے اسالیب اور تنازع کے نتائج پر بہت کام کیا جا چکا ہے اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ دنیا میں اس وقت جاری تنازعات یا تو مسلم ممالک میں ہیں یا ان سے مسلمان وابستہ ہیں، اس...

بابائے سوشلزم

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

یادش بخیر! ایک شیخ رشید ہوا کرتے تھے، بابائے سوشلزم۔ پہلے "آزاد پاکستان پارٹی" میں تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اس کے بانی رکن بنے ۔ تب لوگ پیپلز پارٹی کو ایک مزاحیہ فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ شیخ صاحب مرحوم سوشلزم کا درس پہ درس دیتے رہتے۔ مگر کم علم اور ان پڑھ لوگوں کو کیا پتہ کہ سوشلزم کیا ہوتا ہے۔ ا ستحصال کسے کہتے ہیں۔ اضافی پیداوار وآلات پر کسی کا حق ہونا چاہیے۔ انہیں تو بس ذوالفقار علی بھٹو نے مسحور کر رکھا تھا۔ ایسا جاوو سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ کسی کو سوشلزم کا پتہ وتہ کچھ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کا مطلب...

روایتی مسلم ذہن میں مسئلہ الحاد کی غلط تفہیم

عاصم بخشی

روایتی مسلم ذہن میں موجود سماج کا تصور چونکہ الہامی روایت کی مختلف تعبیرات سے معاشرتی معیارات اخذ کرتا ہے، لہٰذا ایسے غیرمذہبی ذہن کو بھی الحادی یا ’ نیم الحادی‘ گردانتا ہے جس کے لیے الہامی روایت سماجیات کی ذیل میں اپنے اندر کوئی نظری یا عملی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگر تاریخی تناظر میں مسلم سماج کے حال پر ایک نظر ڈالی جائے تو اٹھارویں صدی کے یورپ کی تنویری یا روشن خیال تحریک کی ایک سطحی سی جھلک نظر آتی ہے۔ سطحی اس لئے کہ چاہے بنگلہ دیش میں اپنے شدت پسند مذہبی حریفوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ’فری تھنکر‘ انٹرنیٹ ادیب اور کالم نگار ہوں یا پاکستانی...

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘

محمد زاہد صدیق مغل

جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کا 'اسلام اور سائنس' پر کالم پڑھا، مختصر تبصرہ یہ ہے: ’’سائنس کائنات کی اشیاء پر غور و فکر کرنے، ان کی حقیقت جاننے، ان کی افادیت و ضرورت کو سمجھنے کا نام ہے، ان کے استعمال کے طریقے معلوم کرنے کا نام ہے۔‘‘ نہ جانے وہ کون سی سائنس ہے جو ’’حقیقت تلاش‘‘ کررہی ہے۔ جدید سائنس، جس کا ظہور تاریخ میں ہوا، وہ تو کائنات کے ذرے ذرے کو سرمایے میں تبدیل کرکے نفع میں اضافے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ سائنس کا دائرہ کار ’’(1) یہ چیز کیا ہے؟ اور (2) کیسے کام کرتی ہے‘‘ ہے جبکہ مذہب کا دائرہ کار ’’(3) اسے کس نے بنایا ہے‘‘ اور ’’(4) اس...

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب

محمد زاہد صدیق مغل

صدر مملکت کے حالیہ بیان کے بعد بعض اہل علم احباب ایک مرتبہ پھر سود کے جواز کے لیے وہی دلائل پیش کرنے میں مصروف ہیں جو اپنی نوعیت میں کچھ نئے نہیں۔ اس ضمن میں پیش کئے جانے والے بعض دلائل کی نوعیت تو دلیل سے زیادہ غلط فہمیوں کی ہے۔ مثلاً ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سود لینا اس لیے معقول ہے کیونکہ وقت کے ساتھ افراط زر کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور دلیل میں سود کو اثاثوں کے کرایے پر قیاس کرلیا جاتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں سود کے حق میں دیے جانے والے ان دو دلائل کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ جدید محققین نے کرایے کے جواز اور سود و...

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر

مولانا قاضی نثار احمد

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے دسمبر کے شمارے میں ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے ڈاکٹر محمد شہباز صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف نے تحفظ شریعت کانفرنس کے ایک فیصلے پر نظر ڈالتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے، اس کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ہم لوگ مغربی اور یورپی ممالک کے پروپیگنڈے سے اتنے مرعوب ہوچکے ہیں کہ ان کو خوش کرنے اور انھی کی زبان بولنے کو اپنا فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جناب موصوف نے تحفظ شریعت کانفرنس کی طرف سے عدالت کی طرف سے ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو غیر شرعی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ کو سزاواپس لینے کے مطالبے پر لکھا...

خاطرات

محمد عمار خان ناصر

کوئی بھی نیا ترجمہ یا تفسیری کاوش دیکھنے کا موقع ملے (اور ظاہر ہے کہ جستہ جستہ) تو میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ قرآن کے ان مقامات پر نظر ڈالی جائے تو تفسیری اعتبار سے مشکل ہیں۔ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق یہ کوئی ڈیڑھ درجن کے قریب مقام ہیں۔ سو ’مشکل کشائی‘ کی جہاں سے بھی امید ہو، جستجو جاری رہتی ہے۔ میری نظر میں حالیہ سالوں میں تین ایسی کاوشیں کی گئی ہیں جن میں قرآن کے مشکل مقامات پر خاصا غور وخوض کیا گیا اور محض رسمی تفسیر پر اکتفا کرنے کے بجائے باقاعدہ تدبر کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کے ہر طالب علم کا حق ہے کہ...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۸)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

ایک اور مغالطہ انگیزی اور علماپر طعنہ زنی۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں: ’’الائمۃ من قریش مشہور روایت ہے؛ (مسند احمد،رقم 11898 ) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے ہمارے علما اس غلط فہمی میں مبتلاہو گئے کہ مسلما نوں کے حکم ران صرف قریش میں سے ہوں گے، دراں حالے کہ یہ بات مان لی جائے تو اسلام اور برہمنیت میں کم سے کم سیاسی نظام کی حد تک کوئی فر ق باقی نہیں رہ جاتا؛ اس مغالطے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ ایک بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کے فوراً بعد کی سیاسی صورت حال کے لحاظ سے کہی گئی تھی؛ اسے دین کا مستقل حکم سمجھ لیا گیا۔‘‘ (میزان، ص64)۔ یہ محض علما پر طعنہ زنی...

علمی و فکری رویوں میں اصلاح کے چند اہم پہلو

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(یہ مقالہ 6-7 اپریل 2015 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہند کی جانب سے منعقدہ ایک عالمی کانفرنس بعنوان ’’امت مسلمہ کا فکری بحران‘‘ میں پیش کیا گیا تھا۔ جو خیالات اس میں پیش کیے گئے ہیں، ان کی حیثیت کسی حتمی مطالعہ کی نہیں بلکہ وہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔) جب ہم اِس سوال پر غور کرتے ہیں کہ ’’ کیااسلام کسی اصلاح کا طالب ہے یااُسے بس شارحین کی ضرورت ہے ؟‘‘ تو اس کے ساتھ ہی ایک دوسراسوال کھڑاہوجاتاہے کہ کیااسلام کا متن as it is محفوظ ہے؟ اس سوال کا جواب ظاہر ہے کہ اثبات میں ہے ۔اس لیے یہ تو صاف ہوجاتاہے...

ادب میں مذہبی روایت کی تجدید

مولانا محمد انس حسان

انسان نے آج تک صدیوں کا سفر طے کیا ہے اور پتھر کے زمانے سے نکل کر وہ خلاء کے عہد تک پہنچ چکا ہے۔ اس دور میں اس کی ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں ہے۔ یہ صنعتی انقلاب تمام دنیا میں پھیل چکا ہے۔ ہم جو کھانا کھاتے ہیں، جو کپڑے پہنتے ہیں اور وہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں، وہ الفاظ جو ہم استعمال کرتے ہیں اور وہ ذرائع جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں یہ سب صنعت و حرفت اور اجتماعی اختراعات کی پیدا کردہ ہیں۔ ان سب نے مل کر انسانی زندگی کو ایک مقام بخشا ہے اور اس کی آسائش و آرائش کا سامان مہیا کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ زندگی اس قدر عجیب و...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۷)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

روایات رجم میں جمع و تطبیق کے بعدباہم کوئی تعارض نہیں رہتا۔ روایات رجم کے اس تبصرۂ نا مر ضیہ میں البتہ دو چیزوں نہایت قابل غور ہیں جو ان فی ذلک لعبرۃ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید کی مصداق ہیں: ایک یہ کہ رجم کی کئی حدیثوں میں اس حد کو اللہ کا فیصلہ یا اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ جس ایک روایت (حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی)سے غامدی صاحب نے بھی استدلال کیا ہے، اگرچہ اسے اپنی روایتی چالاکی کے مطابق غلط رنگ پیں پیش کیا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد کو اللہ ہی کی طرف منسوب کیا ہے:...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۶)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۲)

احمد بلال

xii۔ خلاصہ تنقید: ’’قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گو ہمیں اس کی شکلی صورت سے غرض نہیں۔" (از حامد کمال الدین صاحب)۔ جواب: صاحب مضمون نے حامد کمال الدین صاحب کا اقتباس نقل فرمایا ہے۔ ویسے تو میں نے حامد صاحب کے ان اعتراضات کے حامل شمارہ ایقاظ کا تفصیلی تجزیہ ایک علیحدہ مقالے میں پیش کر دیا ہے، تاہم یہاں بھی نکات کی مناسبت سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ پہلی گزارش: یہ دعویٰ اصول میں بالکل درست ہے کہ "نیشن اسٹیٹ کا فارمیٹ بدلنا کوئی دین شکنی نہیں ہے" اور نہ ہی غامدی صاحب نے کبھی اسے دین شکنی کہا ہے۔ تاہم، اس کے اطلاق پر چند کلمات عرض کرنے...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۱)

احمد بلال

محمد زاہد صدیق مغل صاحب دین اسلام پر تدبر کی نگاہ رکھنے والے ایک بالغ نظر دانشور ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور مدرِّس ہیں اور ان دنوں NUST اسلام آباد کے شعبہ معاشیات میں معاون پروفیسر ہیں۔ انہوں نے غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ کے کچھ نکات پر اپنے مفصل اعتراضات و سوالات دو اقساط میں اسی مجلہ میں شائع کیے ہیں، جس کی پہلی قسط اپریل کے شمارہ میں چھپی تھی اور دوسری مئی کے شمارے میں۔ میرے نزدیک ان جیسے ذہین لوگوں کی اس بیانیے کی بحث میں شرکت خوش آئند اور عقدہ کشائی کو سود مند ہو گی۔ میں اگرچہ نہ تو معروف معنی میں غامدی صاحب کا شاگرد ہوں اور نہ...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۵)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

اہل اسلام کہتے ہیں کہ قرآن میں زانی اور زانیہ کی جو سزا(سو کوڑے ) بیان ہوئی ہے، حدیث رسول کی رْو سے وہ کنواروں کی سزا ہے اورشادہ شدہ زانیوں کی سزا رجم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے اور اس کے مطابق آپ نے رجم کی سزا دی بھی ہے؛ آپ کے بعد خلفاے راشدین نے بھی یہی سزا دی اور اس کے حد شرعی ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔ فراہی گروہ، مولانا حمید الدین فراہی سے لے کر مولانا اصلاحی ، غامدی و عمار ناصر تک ، سب رجم کی صحیح متواتر اور متفق علیہ روایات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ان احادیث سے حد رجم کا اثبات قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل...

متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات۔ اصل شرع کی بالادستی ہے، ریاست بنانے کے طریقے ظروف ہیں۔ غامدی صاحب دراصل ظروف کو اولیت دے کر گفتگو کی ترتیب کو بدل رہے ہیں۔ جس بیانئے کو رد کرنے کے لیے غامدی صاحب نے بیانیہ وضع فرمایا ہے، اس کے تناظر میں اس کا سادہ سا جواب کچھ اس طرح ہے: ’’’نیشن سٹیٹ‘ کا فارمیٹ بدلنا کوئی 'دین شکنی' نہیں ہے۔ ریاستی عمل (قوانین کے اجراء اور نفاذ) کو اسلام کا پابند کردینے کی جو بھی صورت مسلمانوں کی استطاعت میں ہو، مسلمان اْسے کیوں اختیار نہ کریں؟ 98 فیصد مسلم آبادی اپنی ’’سماجی قوت‘‘ اور ’’سیاسی رِٹ‘‘ کو اس کا ذریعہ بنائے،...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۴)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

حد رجم اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو واضح الفاظ میں اپنے پیغمبر کے بارے میں فرمایا ہے: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ: 44۔46)۔ ’’اگر وہ ہم پر کچھ باتیں گھڑ کر لگا دیتا تو ہم اسکے دائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے ،پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔‘‘ یہ اللہ نے کوئی اصول بیان نہیں کیا بلکہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت بتلایا ہے کہ اگر یہ کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتے توہم سخت مواخذہ کرتے؛ اس آیت میں گویا اس بات کی وضاحت...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۳)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

حدیث و سنت کا مفہوم : اہل اسلام اور غامدی صاحب۔ غامدی صاحب کے اندراس شوخ چشمانہ جسارت کاحوصلہ کیوں پیدا ہوا ؟ اس لیے کہ وہ آپ کے طریقے اور عمل کو ’سنت ‘ سمجھنے کے لیے تیار نہیں؛ چناں چہ ان کے ٹیپ کا بند ملا حظہ فرمائیں : ’’ لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دوزانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے ؛ اس کے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘ ہم نے الحمدللہ مکمل اقتباس دے کر اس کے مختلف ٹکڑوں کی وضاحت کی ہے؛ اس میں کمی بیشی نہیں کی ہے تا کہ ان کا حلقہ ارادت یاوہ خود یہ نہ کہہ سکیں کہ سیاق...

متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

غامدی صاحب کا حال ہی میں چھپنے والا "متبادل بیانیہ" زیر بحث ہے۔ اس میں بہت سی باتوں کا ذکر ہے؛ سردست صرف اسکی دو شقوں پر گفتگو کرنا مقصود ہے؛ ایک یہ پاکستانی ریاست کو مسلمان بنانا نہ صرف ازروئے شرع مطلوب و مقصود نہیں بلکہ یہ خلاف عقل بھی ہے۔ دوسری یہ کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نیز اسکا قیام کوئی دینی تقاضا نہیں۔ ریاست اور مذہب۔ اس پر گفتگو کے تین پہلو ہیں، ایک کلامی، دوسرا قومی، تیسرا حاضر و موجود وسیع تر تناظر میں اس کے متوقع نتائج۔ تینوں پر ترتیب وار گفتگو کی جاتی ہے۔ (1) متبادل بیانئے کا کلامی سیاسی پہلو۔ شق نمبر ایک کے مطابق (جہاں تک میں سمجھا...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۲)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

صحابہ کرام کا عمل اور رویہ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے۔ انھوں نے ایک موقع پر فرمایا: لعن اللہ الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ۔ ’’اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت کرے کہ یہ اللہ کی پیدا...

معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد / معاصر جہاد ۔ چند استفسارات

محمد عمار خان ناصر

آج کی گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ معاشرت یا ریاست کی سطح پر جو تبدیلی اس وقت اہل دین، اہل مذہب لانا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں اب تک اختیار کی گئی ہیں، ان کا ایک جائزہ لیا جائے۔ ان میں جو کچھ کمی کوتاہی، نقص یا نتائج کے لحاظ سے جو عدم تاثیر دکھائی دیتی ہے، اس کے اسباب پر غور کیا جائے۔ یہاں جو گفتگوئیں ہوئیں، خاص طورپر محترم اللہ داد نظامی صاحب نے جو کچھ کہا، تھوڑا تھوڑا ان کا حوالہ دے کر میں اپنی گفتگو کا ایک تناظر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر بہت ہی اختصار کے ساتھ جو ڈسکشن ہوئی، اس میں جو تھوڑا بہت میں اضافہ کر سکتا ہوں، وہ کرنے...

غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ

سید منظور الحسن

(کئی سال قبل ماہنامہ الشریعہ کے صفحات پر جاوید احمد صاحب غامدی کے افکار ونظریات پر نقد ونظر اور جوابی توضیحات پر مبنی ایک سلسلہ مضامین شائع ہوا تھا۔ محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے اپنے حالیہ تفصیلی مقالے میں اس بحث کے بعض پہلوؤں کو دوبارہ موضوع بنایا ہے جس کی قسط وار اشاعت کا سلسلہ زیر نظر شمارہ سے شروع کیا جا رہا ہے۔ بحث کا پس منظر قارئین کے ذہنوں میں تازہ کرنے کے لیے سابقہ سلسلہ مضامین میں سے کچھ منتخب حصے یہاں دوبارہ شائع کیے جا رہے ہیں۔ سید منظور الحسن کا تفصیلی مقالہ جس سے درج ذیل اقتباسات منتخب کیے گئے ہیں، الشریعہ کے جنوری تا...

سنت کے حوالے سے غامدی صاحب کا موقف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۱)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

ماہنامہ الشریعہ میں مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے کتابچے ’’غامدی صاحب کا تصور حدیث وسنت‘‘ کا اور ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت بنام ’’الشریعہ کا طرز فکر اور پالیسی: اعتراضات واشکالات کا جائزہ‘‘ کا اشتہار دیکھا تو راقم نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ بذریعہ وی پی دونوں چیزیں منگوائیں۔ اول الذکر کتابچے میں مولانا راشدی صاحب کے دو مضمون تھے جو پہلے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ موضوع چونکہ راقم کی دلچسپی کا تھا اور دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ فراہی گروہ عرصہ دراز سے قرآن کے نام پر گمراہی پھیلا رہا ہے جس میں سرفہرست مولانا امین احسن اصلاحی...

عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور مقامی نظام

حافظ محمد زبیر

اس وقت عالم اسلام ہو یا غیر مسلم ممالک، ایشیا ہو یورپ ہو یا افریقہ، اگرچہ نچلی سطح پر لوگوں کے عقائد اور عبادات میں تو فرق موجود ہے لیکن اوپر کی سطح پر سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کے طور پر ساری دنیا اس وقت ایک ہی نظام کی چھتری کے نیچے کھڑی ہے۔ سیاسی سطح پر ڈیموکریسی، معاشی میدان میں سرمایہ داری (capitalism) اور معاشرت میں مغربی کلچر نے جس تیزی سے دنیا میں رواج اور غلبہ حاصل کیا ہے اس سے اجتماعیت کے میدان میں ساری دنیا ایک ہی عالمی مذہب کی حامل نظر آتی ہے۔ البتہ فرد کی سطح پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقائد اور عبادات میں کوئی عالمیت (globalism) نہ ہونے کی...

خاطرات

محمد عمار خان ناصر

برصغیر کی ماضی قریب اور معاصر تاریخ میں دیوبندی مکتب فکر نے دین کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور علمی وفکری ترجیحات سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، بحیثیت مجموعی اس مکتب فکر میں راستی اور توازن فکر نمایاں نظر آتا ہے۔ دینی تعبیر کے علاوہ دیوبندی تحریک کا تعارف اس خطے میں اپنے مخصوص سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ہے۔ اس ضمن میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں اکابر دیوبند کے کردار کو دیوبندی تحریک کے سیاسی تعارف کے ایک بنیادی حوالے کی حیثیت حاصل ہے۔ معاصر تناظر میں، دیوبندی مسلک سے نسبت رکھنے والے جو عناصر افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے جلو میں...

ڈاڑھی سے متعلق ایک اشکال کا حل

مولانا مفتی محمد راشد ڈسکوی

مولانا عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ کی کتاب ’’براہین‘‘ (استفسارات، داڑھی کامسئلہ، ص: ۷۰۱-۷۰۳، دارالکتاب) میں داڑھی کے حکمِ شرعی کے بارے میں ایک سوال وجواب موجود ہے، جس میں مولانا عمار خان ناصر صاحب فرماتے ہیں: ’’میری طالب علمانہ رائے میں داڑھی کو ایک امرِ فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذِ گرامی کا قولِ قدیم اَقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں داڑھی کو ’’شعار‘‘ مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اِشکال ہوتا ہے‘‘۔یعنی: مسئلہ داڑھی کے بارے میں مولانا عمار خان ناصر صاحب جمہور فقہاء کرام کی طرح حکمِ شرعی...

’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟ سانحۂ پشاور کے فقہی تجزیے کی ضرورت

محمد مشتاق احمد

کیا جو کچھ پشاور میں ہوا یہ بعض جنونیوں کی کارروائی تھی جو بھلے برے کی تمیز کھو بیٹھے تھے ؟ کیا یہ کسی اور کارروائی کا رد عمل تھا ؟ کیا یہ بدلے کی کارروائی تھی ؟ کیا یہ یہود و نصاری کی سازش تھی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو مزید بدنام کردیں ؟ کیا واقعتاً اسلامی قانون میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن کی رو سے یہ کارروائی مستحسن ، یا کم سے کم جائز ، تھی ؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اس وقت سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں اور اب اہلِ علم ان کے جواب سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ قانونی حیثیت کا تعین: مجرم، باغی یا خارجی؟ قانونی تجزیے کے لیے سب سے پہلے اس بات...

تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۲)

محمد انور عباسی

تحریکِ نسوان یا نسوانیت (Feminism): روشن خیالی کی تحریک سے قبل مغربی معاشرے میں عورت کو معاشرے کا کوئی مفید فرد تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ ہیگل اور فرائیڈ دونوں نے عورت کے بارے میں کچھ مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا۔ شوپنہار (Schopenhauer) نے تو صاف طور پر عورت کو انتہائی سادہ لوح اور کوتاہ نظر قرار دیا ہے۔ اس کے نزدیک عورت کو مکمل انسان نہیں کہا جا سکتا۔ (۱۰) اسی بنیاد پر عورت کو تو ووٹ کا بھی حق نہیں تھا۔ پروفیسر کرسٹن کے الفاظ میں: "By the second wave of Feminism in the 1960s to 1970s most women in Western Countries had gained basic social and political rights such as the vote after considerable social dispute." (11) یعنی۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے...

جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلام

محمد عمار خان ناصر

اسلام آباد میں قائم، ملک کے معروف تحقیقی ادارے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے حالیہ چند مہینوں میں اسلام، جمہوریت او رآئین پاکستان کے موضوع پر لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں متعدد علمی وفکری مذاکروں کا اہتمام کیا اور ملک بھر سے مختلف حلقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے اہل فکر ودانش کو موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کے لیے جمع کیا۔ ان نشستوں کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ نائن الیون جیسے واقعات کے تناظر میں جدید جمہوری اصولوں پر قائم نظم حکومت کو خلاف شریعت قرار دے کر ریاستی نظام کو بزور قوت تبدیل کرنے کی جو سوچ پیدا...

تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۱)

محمد انور عباسی

انسان کا مطالعہ اہم سہی لیکن مغرب کے انسان کا مطالعہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ چند صدیاں قبل کا مغربی انسان آج کے اس انسان سے یکسر مختلف ہے۔ اس کے فلسفہِ حیات نے اسے ایسا فرد Human being) ) بنا کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس کی پیروی کی خواہش آج کل دنیا کے اکثر انسانوں کے دلوں میں خواب بن کر تڑپ رہی ہے، یہ سمجھے بغیر کہ مغرب کا انسان کس طرح سے آزاد ہے، اس کی زندگی کا فلسفہ کیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ لبرل ازم نے اس کے رویّوں میں کیا تبدیلی پیدا کردی ہے اور اس کی سمت کیا ہے؟ ہم مسلمانوں کے لیے یہ مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس اپنا ایک فلسفہ...

سائنسی تدبر کی بحث: مان کر نہ ماننے کی روش

ڈاکٹر محمد شہباز منج

عصرِ حاضر اور بالخصوص برصغیر کے اربابِ مذہب کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے فہمِ مذہب کو مذہی متن کی آخری و حتمی مراد سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی تعبیرِ متنِ مذہب کے خلاف کوئی بات دیکھ پڑھ کر جذباتی صدمے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اپنی رائے سے کسی علمی اختلاف پر ان کا دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے کہ یہ تنقید کرنے والے کیسے لوگ ہیں، "قرآن و حدیث" کے خلاف دلائل دینے پر تلے ہیں۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ ہماری اس بات کو جناب عبداللہ شارق سے ہماری بحث سے الگ کر کے دیکھ لیں، وہ پہلے ہی ہماری یاوہ گوئیوں سے رنجیدہ ہیں، انہیں...

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

مشرکین مکہ پر قیاس۔ جناب عما ر صاحب نے حقِ تولیت کے ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر یہ ’’دلیل ‘‘ذکر کی ہے اور یہ’’دعوی ‘‘کیا ہے کہ مسلم مفکرین یہود کی تولیت کی منسوخی کے لئے مسجدِ اقصی کو مسجدِ حرام پر اور یہود کو مشرکینِ مکہ پر ’’قیاس ‘‘کرتے ہیں۔کہ جس طرح مشرکینِ مکہ اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مسجدِ حرام کی تولیت سے محروم کئے گئے ،اسی طرح یہود بھی اپنی نافرمانیوں کی بدولت مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونگے۔ آنجناب نے یہ استدلال حضرت قاری طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام...

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

اپنے گذشتہ مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل ۔۔۔‘‘ پر بالترتیب جناب عاصم بخشی اور ڈاکٹر شہباز منج کے دو ناقدانہ تبصرے ’’الشریعہ‘‘ کے شمارہ اگست ۲۰۱۴ء میں نظر سے گذرے۔ دونوں صاحبان نے میرے مضمون میں مذکور اصل علمی نکات سے ذرا بھی مس نہیں کیا اور نہ ہی میرے اصل موقف ومدعا کو موضوعِ بحث بنایا ہے جسے میں ان کی طرف سے نیم دلانہ ’’اعترافِ حقیقت‘‘ سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ مغالطے ہیں اور کچھ سوالات ہیں جو خصوصا اول الذکر ناقد نے اٹھائے ہیں اور ہماری گفتگو کے اصل منشاء سے غیر متعلق ہونے کے باوجود زیرِ بحث موضوع سے ہی کچھ کچھ متعلق ہیں اور ان...

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

قبلہ اول، انبیائے کرام کا مولد و مدفن اور روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد افضل ترین بقعہ مسجدِ اقصی کے حوالے سے عمار خان ناصر کا ’’عجیب و غریب‘‘ موقف اور ماضی و حال کی پوری امتِ مسلمہ کے برعکس اختیار کردہ ’’نظریہ‘‘علمی حلقوں میں کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے ۔امتِ مسلمہ کے بالغ نظرمحققین نے اس موقف اور نظریے کے مضمرات، نقصانات، پسِ منظر اور اس حوالے سے عمار خان ناصر کے’’ ماخذ و مراجع‘‘ کو بخوبی آشکارا کیا ہے۔ذیل کی تحریر میں ہم آنجناب کی اس موضوع پرشائع شدہ دو مرکزی تحریروں’’مسجدِ اقصی،یہوداور امتِ مسلمہ‘‘(ماہنامہ الشریعہ، ستمبر ،...

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

محمد رشید

اپریل 2014ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والے راقم کے مضمون’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ کی تردید میں جون 2014ء کے الشریعہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب کامضمون شائع ہوا ہے۔9صفحات پرمشتمل مضمون کے پہلے دو صفحات میں راقم کے متذکرہ مضمون پر ’’فردجرم‘‘ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ۱۔محمد رشیدکے مضمون میں جہادی وانقلابی لوگوں کا نقطہ نظربیان کیاگیاہے۔ ۲۔یہ نقطہ نظر اول تا آخرغلط ہے۔ ۳۔پوری تحریر قرآن وحدیث کے دلائل سے عار ی ہے۔ ۴۔پوری تحریر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔ ۵۔یہ تحریر ردعمل کی نفسیا ت اورنام...

مادّی ترقی کا لازمہ: واہمہ یا حقیقت؟ چند توضیحات

محمد ظفر اقبال

مئی ۲۰۱۴ء میں وطن عزیزکے مؤقر جریدے ماہنامہ الشریعہ [گوجرانوالہ] میں راقم کا ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟‘‘ شائع ہوا۔ ۱؂ یہ مضمون کسی تحکمانہ جذبے کے زیر اثر نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اس کا واحد مقصد عصر حاضر میں مادی ترقی کے حوالے سے ہم ایسے طالب العلموں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات و اشکالات کے جوابات کی جستجو تھی۔ راقم نے جو کچھ تھوڑا بہت مطالعہ کیا تھا، اس کے مطابق جو سوالات اور اشکالات قابل جواب معلوم ہوئے وہ اہل علم کی خدمت میں اس خیال سے پیش کردیئے تھے کہ ان کے گراں قدر افکار اس مبحث کو آگے بڑھانے اور خلجان کی...

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۲)

مفتی امان اللہ نادر خان

پانچویں اعتراض کا جواب۔ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ‘‘۔ علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ’’لا یصح‘‘ سے مراد’’صحیح اصطلاحی‘‘ کی نفی ہو تو یہ بات ہو سکتی ہے ،لیکن یہ مضر نہیں اس لیے کہ ’’ صحیح اصطلاحی‘‘ احادیث کا تو وجود ہی کم ہے، یہی وجہ ہے کہ عام شرعی احکام اور فضائل ’’حدیث حسن ‘‘ سے ثابت ہوتے ہیں ، یہی ابن راہویہ کی مراد ہے ۔ اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ کوئی حدیث ثابت ہی نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر...

مادی ترقی اور شناخت کا بحران

حافظ کاظم عثمان

مئی ۲۰۱۴ء کے شمارے میں ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمی نتیجہ: شناخت کا بحران، واہمہ یا حقیقت‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ جناب محمد ظفر اقبال صاحب کا موضوع قابل ستایش ہے اور مغربی عقائد و نظریات کے بارے میں ان کا مؤقف بھی مضبوط ہے، لیکن مضمون پڑھتے ہوئے بعض باتوں نے پریشان کیا اور ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ یہ مضمون دراصل ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں لکھا گیا ہے۔ 1۔ محمد ظفر اقبال صاحب ابتدا ہی میں لکھتے ہیں کہ ’’امر واقعہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں کس سے پیچھے ہیں اور یہ پیچھے ہونا...

قرآنی مطالبہ تدبر کائنات: حقیقت مطلق تک رسائی کا عالمگیر مذہبی تجربہ یا ایک ناقابل ابلاغ سری کیفیت پر اصرار؟

عاصم بخشی

اگر کسی اہم سوال پر مبنی مضمون کا مقدمہ عقل و شعور کو اپنا مخاطب بنانے کی بجائے مناظرانہ اسلوب میں کیے گئے ان دعوؤں سے شروع ہو کہ بات تو نہایت واضح ہے مگر چوں کہ یہ سائنسی علمیت کا شکار نام نہاد دانشور عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کو صراط مستقیم سے بھٹکا رہے ہیں اس لیے ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے، تو یہ مکالمہ کی موت ہے اور علمی تنقیدکا کیاکہیے کہ وہ توشاید مکالمہ سے کہیں آگے کا مرحلہ ہے۔ یہ تھا وہ فوری احساس جو مولانا عبداللہ شارق کا مضمون ’’تدبر کائنات کے قرآنی فضائل: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی‘‘ پڑھ کے ذہن میں پیدا ہوا۔ مگر یہ تسلیم...

روحانی تدبر کائنات؟

ڈاکٹر محمد شہباز منج

کوئی بات کسی کے سر تھوپنے کا واقعی کوئی اخلاقی جواز نہیں۔لیکن کچھ مہربان صرف یہ جملہ استعمال کرکے دوسروں کے سر جو جی چاہے تھوپنے کی سند حاصل کر تے دکھائی دیتے ہیں۔میرا سائنس اور مغربی فکر سے متعلق اپنے مضامین میں ایک مقدمہ یہ تھا کہ قرآن کائنات میں تدبر کی جو دعوت دیتا ہے، اس کے نتیجے میں سائنسی ترقی میں مدد مہیا ہوتی ہے۔میں نے کہیں یہ بات نہیں کہی کہ قرآن سے کسی ایسے تدبر کی دعوت ملتی ہے جو آدمی کو خدا بیزار بنا دے یا اسے خدا اور اس کے مطالبات سے غافل کر دے ۔ الشریعہ جون 2014کے "تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل" نگارنے میرے مضامین سے یہ تدبر خدا جانے...

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۱)

مفتی امان اللہ نادر خان

مؤرخہ 7 اور 8 جولائی (2013) کے روزنامہ ’’امت‘‘ میں ’’ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ‘‘صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’ حضرت معاویہؓ اور قدیم مؤرخین اور محدثین‘‘ شائع ہوا ، جس میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ اہلسنت والجماعت ‘‘ کے مؤقف سے انحراف کر کے بزعمِ خویش حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’صحیح حالات ‘‘پر ’’تاریخی حقائق ‘‘اور ’’قدیم مؤرخین و محدثین ‘‘ کی آراء کی مدد سے روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کرنے کی نا کام کو شش کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زبان زد عام مشہور فضائل و مناقب من گھڑت ہیں ،قدیم مؤرخین و محدثین میں سے کسی نے انہیں ذکر...

جمہوری و مزاحمتی جدوجہد ۔ محمد رشید کے جواب میں

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

الشریعہ اپریل ۲۰۱۴ء کے شمارے میں محمد رشید صاحب کا مضمون ’ جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اس میں انتہائی وضاحت سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور دوسرے جہادی و انقلابی لوگوں کا نقطہ نظر بیان کردیا ہے۔ ہم اس نقطہ نظر کو اول تا آخر غلط سمجھتے ہیں اور اس غلطی کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ فاضل مضمون نگار کی تحریر میں جہادی و انقلابی نقطہ نظر انتہائی وضاحت سے بیان کر دیے جانے کے باوجود پوری تحریر قرآن و حدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے۔ پوری تحریر واضح طور پر محض جذبات کی شاعری کا اظہار...

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد: ایک مغالطے کا ازالہ

اکرم تاشفین

روس کے خلاف افغانوں کا جہاد ، امریکا کا تعاون اور روس کی شکست۔یہ موضوع اب شاید مزید اس قابل نہیں کہ اس پر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رکھا جائے کیوں کہ ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے حالات میں عالم اسلام کو اس وقت جن فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں روس کی شکست کے پارینہ قصے کو دہرا نا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ تاریخ کے اس حساس عصر میں مسلمان اہل فکر وقلم کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل کو جن فکری پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ان گتھیوں کو سلجھاتے رہنا چاہیے۔...

جناب عبد الستار غوریؒ

محمد عمار خان ناصر

جناب عبد الستار غوری بھی اپنے وقت مقرر پر اللہ کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ آمین۔ ان سے پہلی ملاقات آج سے کوئی بائیس چوبیس برس قبل گوجرانوالہ میں ، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ہماری رہائش گاہ پر ہوئی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ہمراہ والد گرامی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ (میری یادداشت کے مطابق یہ ڈاکٹر سفیر اختر صاحب تھے، لیکن ایک موقع پر غوری صاحب نے تصحیح کرتے ہوئے غالباً افتخار بھٹہ صاحب کا نام لیا تھا)۔ اس زمانے میں مجھے مسیحیت اور بائبل وغیرہ کے مطالعے کا نیا نیا شوق، بلکہ کسی حد تک جنون...
< 101-150 (410) >
Flag Counter