عالم اسلام اور مغرب

امریکہ کے باضمیر دانش وروں کا اعلان حق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام اور اقوام بڑی طاقتوں کی فوجی مداخلت اور دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جنہیں امریکی حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے یا جن پر اس کی طرف سے مقدمے چلائے جا رہے ہیں، انہیں معروف طریقہ کار کے مطابق وہ تمام حقوق ملنے چاہییں جو دوسروں کو حاصل ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ سوال کرنے، تنقید کرنے اور اختلاف کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد ضروری ہوتی ہے اور ان کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ...

تیل کی طاقت

کرسٹوفر ڈکی

تیل کے بادشاہ اب بھی سعودی ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تیل کے چشمے خشک نہیں ہو جاتے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عرب سرمایہ داروں کی تصویر یوں پیش کی جا رہی ہے جیسے وہ تیل فروخت کرنے والی ایک زوال پذیر تنظیم کے ڈانواں ڈول مالک ہوں، جس کی طاقت دو خطروں کے باعث کمزور پڑ رہی ہے: ایک روس کی بڑھتی ہوئی تیل کی طاقت اور دوسرا عراق جو اس انتظار میں ہے کہ خلیج عرب میں سعودیہ کی جگہ لے سکے۔ زوال پذیر صحرائی بادشاہت کے اس خیال میں کچھ صداقت ضرور ہے۔ تیل کے حوالے سے سعودیوں کا اثر ورسوخ اب پہلے کی طرح عام اور وسیع نہیں ہے اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی اب پہلے...

بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

ادارہ

بیروت کی علما کانفرنس کا اعلامیہ۔ القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے...

جمہوریت‘ مسلم ممالک اور امریکہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکہ کے سابق صدر کلنٹن ان دنوں فکری ونظریاتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں اور امریکی پالیسیوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور مختلف اجتماعات سے خطاب کرنے کے علاوہ عالم اسلام کی محترم مذہبی شخصیات جامعہ ازہر کے امام اکبر اور حرمین شریفین کے امام محترم سے بھی ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں کے تعلیمی نظام کو ہدف تنقید بناتے ہوئے تلقین کی کہ وہ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کریں اور خا ص طور پر اس میں عقیدہ پر زور دینے کے عنصر پر نظر ثانی کریں۔...

مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

درج ذیل مقالہ جنگ گروپ پاکستان کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی:دنیائے اسلام کے لیے ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں ۲۰‘ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ہونے والے عالمی سیمینار میں پڑھاگیا۔ میری گفتگو یا موضوع کے دو حصے ہیں: ۱۔ مسلمانوں کا عالمی کردار کیا ہے؟ ۲۔ اور کیا ہونا چاہیے؟ پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانان عالم کا سرے سے کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک ارب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت...

مسلمانان عالم کے لیے لائحہ عمل

مولانا محمد عیسی منصوری

جب سے اس دھرتی پر انسان کا وجود ہوا ہے‘ یہاں خیر اور شر کی رزم آرائی اور جنگ مسلسل جاری ہے۔ ہر دور میں خیر کا راستہ آسمانی وحی کی اتباع کا اور شر کا راستہ خواہشات وشہوات کے پیچھے دوڑنے کا رہا ہے۔ خدا کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے دنیا میں خیر کو شر پر غالب کر دیا تھا اور پوری انسانیت کو اس کے خالق کا آخری پیغام پہنچا دیا تھا جو پوری انسانیت کی بقا اور خوش حالی‘ امن وسلامتی‘ ہمہ گیر یک جہتی اور ہر نوع کی دنیوی ودینی ترقیات وفلاح کا ضامن تھا۔ اس پیغام کی بنیاد ایک خالق کی عظمت واطاعت اور تمام انسانوں کی مساوات...

جہادی تحریکات اور ان کا مستقبل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال :۱۱ ستمبر کے حملے کے بعد جو حالات پیش آئے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب : ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی...

ملتِ اسلامیہ اور موجودہ عالمی صورتِ حال

ادارہ

۲۰۔۲۱ دسمبر ۲۰۰۱ء کو کراچی میں ’’جنگ گروپ آف نیو زپیپرز‘‘ کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی، عالم اسلام کو درپیش ایک نیا چیلنج‘‘ کے عنوان سے دو روزہ سیمینار ہوا جس میں عالم اسلام کے ممتاز دانش وروں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے اس سیمینار کے چند اہم خطابات کا خلاصہ اور اعلامیہ روزنامہ جنگ کی رپورٹنگ کی مدد سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر کے علماء کرام، اہل دانش اور دینی وسیاسی راہ نماؤں سے ہماری گزارش ہے کہ ان کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ غور طلب نکات پر کھلے دل ودماغ کے ساتھ بحث وتمحیص کا اہتمام کیا جائے اور تیزی...

امریکی صدر ٹرومین اور سعودی فرماں روا شاہ عبد العزیز کی تاریخی خط وکتابت

ادارہ

مالیر کوٹلہ بھارت کے دینی جریدہ ماہنامہ ’’دار السلام‘‘ نے نومبر ۲۰۰۱ء کے شمارے میں مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین کے ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء کے تحریر کردہ ایک خط اور ملک عبد العزیز آل سعود کی طرف سے اس کے جواب کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان، کشمیر، فلسطین کے حوالے سے امریکہ جو کردار اب ادا کر رہا ہے، وہ کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں بلکہ بہت پہلے سے طے شدہ پالیسی اور پروگرام کا ایک تسلسل ہے اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ ہمارے مسلم حکمران امریکہ کے...

جنوبی ایشیا کے حوالے سے یہودی منصوبہ بندی

اسرار عالم

عالم اسلام کے بہتیرے حکمرانوں کی سالوسی‘ خاموشی یا مجبوری کے ساتھ حاشیہ برداری کے باوجود پوری امت اور بطور خاص عامۃ المسلمین میں بڑھتے ہوئے دینی رجحان‘ شعور‘ جاں سپاری اور مغرب سے نفرت نے یہودیوں کومزید برافروختہ اور انہیں مزید غیر انسانی طور پر کچلنے کی طرف مائل کر دیا ہے۔ یہودی قوت کی یہی حواس باختگی جو مختلف پردوں میں مختلف بہانوں یا تدبیروں سے اور مختلف ہاتھوں کے ذریعے سے تقریباً تمام ہی براعظموں میں مسلمانوں کے قتل عام‘ نسل کشی ‘ دربدری‘ عصمت دری‘ بائیکاٹ‘ اذیت دہی اور بے عزتی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ یہودی ان ساری تدبیروں...

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون سے اغوا شدہ طیاروں کے ٹکرانے سے جو عظیم جانی و مالی نقصان ہوا، اس سے سب لوگوں کو دکھ ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس کی ذمہ داری عرب مجاہد اسامہ بن لادن پر ڈال کر اس کی آڑ میں افغانستان پر حملہ کرنے کا جو اعلان کیا ہے، اس سے صورتحال میں اور کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت سے امریکہ کا مطالبہ ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے مگر طالبان حکومت کا موقف یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے، اس کے مطالبہ پر غور کیا جائے گا۔ محض شک یا الزام پر وہ ایک مجاہد کو، جو ان کا...

مغربی تہذیب کی یلغار

محمد شمیم اختر قاسمی

مسلمانوں کے ساتھ میڈیا کا معاندانہ رویہ: عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ اور وسائل نے اتنی ترقی کی ہے کہ اور اس کا دائرۂ عمل اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ دنیا کا ہر گوشہ اس پر عیاں اور ہر جگہ اس کی پہنچ ہے۔ وہ جس واقعے کو جب اور جس وقت چاہے، اس کا واقعی یا خیالی پس منظر پیش کر سکتا ہے اور جس پر چاہے، پردہ ڈال سکتا ہے اگرچہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ بالخصوص امریکیوں کے پاس مسلمانوں کے خلاف میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو چالاکی کے ساتھ پیش کرنے کے ایسے تمام نسخے موجود ہیں جس سے وہ مثلا اسامہ بن لادن کا سر کسی اور کے سر پر دکھا سکتے...

طالبان کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کا متن

ادارہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کا متن درج ذیل ہے: اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم پر عمل کرتے ہوئے: (۱)مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل کریں جو بالخصوص بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو پناہ دینے اور تربیت دینے سے روکتی ہے۔ اس قرارداد کے تحت طالبان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں کہ ان کے زیر کنٹرول علاقے کو دہشت گردی کی تنصیبات اور کیمپوں کے لیے یا دوسرے ملکوں یا ان کے شہریوں کے دہشت گردوں کی کارروائی کے لیے استعمال...

تحریک ریشمی رومال پر ایک نظر

مولانا شمس الحق مشتاق

یہ بیسویں صدی کا حیدر آباد سندھ ہے۔ قدیم طرز کے مکان میں ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس سوئی دھاگا لیے ایک زرد رنگ کا رومال جس کی لمبائی ایک گز ہے اور عرض بھی اتنا ہی ہے گدڑی میں سی رہا ہے۔ وضع قطع اور صورت شکل سے درویش نظر آتا ہے۔ اچانک ایک دھماکہ سا ہوتا ہے وہ سر اٹھا کر دیکھتا ہے چند گورے اور سکھ فوجی صحن کی دیواریں پھاند کر اس کی طرف لپکے آرہے ہیں۔ وہ گدڑی اٹھا کر کمرے کے پچھلے دروازے کی طرف بھاگنے لگتا ہے لیکن فوجی سر پر پہنچ جاتے ہیں اور اس سے گدڑی چھین لیتے...

عالمی معیشت، یہودی ساہوکار اور مسلم ممالک

عبد الرشید ارشد

یہود کے بڑوں ۹۲۹ ق م میں عالمی حکمرانی کے لیے جو منصوبہ بندی کی اور جسے ہر دور کے بڑے یہودی سینے سے لگائے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اس منصوبہ بندی کی نوک پلک سنوارتے، اس کی حفاطت کرتے آئے، سود کے حوالے سے اس کے انکشافات چونکا دینے والے ہی نہیں، با شعور مسلمانوں کی نیندیں حرام کرنے والے ہیں۔ نزولِ قرآن سے کم و بیش ساڑھے سولہ سو سال قبل جس خباثت کی بنیاد پر دنیا مسخر کرنے کا یہود نے منصوبہ بنایا تھا، خالق نے قرآن حکیم میں اس خباثت کا توڑ اہلِ ایمان کے سامنے سود کو حرام قرار دے کر، اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دے کر فرمایا کہ مجھ...

مسلم ممالک کے لیے مغربی ممالک کا ایجنڈا

ظہیر الدین بھٹی

عالمی ادارے اور مغربی قوتیں مسلم ممالک کے نظام اور معاشرت میں کس قسم کی تبدیلی چاہتی ہیں؟ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً ’’الشریعہ‘‘ میں عاملی پریس کے حوالے سے معلومات پیش کی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں روزنامہ جرأت لاہور نے ۵ نومبر ۱۹۹۹ء کو برادر مسلم ملک تیونس میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جناب محمد ظہیر الدین بھٹی کی مندرجہ ذیل رپورٹ شائع کی ہے جس سے مسلم ممالک کے لیے مغربی اداروں کے تجویز کردہ عزائم اور ایجنڈے کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اور ہمارے ہاں این جی اوز ان حوالوں سے جو کام کر رہی ہیں اس کے مقاصد بھی واضح ہو جاتے ہیں۔...

مغربی مسلمانوں کے مسائل ۔ علماء کیلئے چیلنج

مولانا مجاہد الاسلام قاسمی

ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر میں ۱۴ اگست کو لندن پہونچا۔ مولانا عیسٰی منصوری اور مولانا زاہد الراشدی اس فورم کے روحِ رواں ہیں۔ موضوع تھا ’’یورپی مسلمانوں کی دشواریاں اور ان کا حل‘‘ اس موضوع پر تفصیلی خطاب ہوا۔ اس سفر میں بہت سی ممتاز شخصیتوں اور اداروں کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور متعدد شہروں میں جانا ہوا، لوگوں نے بے حد مشغول رکھا لیکن یہ مشغولیت بہت مبارک تھی اور کارِ دین کے لیے تھی۔ انگلستان میں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں جو مختلف اسلامی ممالک سے آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ اصلاً یہ تلاشِ معاش میں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ترک ہیں، عرب...

علماء مغربی فلسفہ کی ماہیت کو سمجھیں اور انسانی معاشرہ کی راہنمائی کریں

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے علماء کرام اور مسلم دانشوروں پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو دنیا کی دوسری اقوام تک پہنچانے کے لیے مربوط اور منظم پروگرام ترتیب دیں اور اسلامی تعلیمات کو آج کی زبان میں لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔ وہ ۳۱ اگست ۱۹۹۴ء کو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ورلڈ اسلامک فورم کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے جو مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر مولانا ندوی نے کہا کہ علماء حق نے ہر دور میں وقت کے فتنہ اور ضرورت کو پہچانا...

مولانا سندھیؒ کی ایک تاریخی تقریر

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری

عزیزانِ گرامی! ۱۹۱۵ء میں مجھے میرے استاد حضرت شیخ الہندؒ نے افغانستان بھیجا تھا۔ آپ کے بزرگوں نے مجھے باہر بھیجا تھا۔ باہر رہ کر جو کچھ اسلام کی خدمت کر سکتا تھا، میں نے کی۔ میرے سامنے پہاڑ آئے، شکست کھا گئے، موت آئی، شکست کھا گئی۔ میں ان سپہ سالاروں کا رفیق رہا جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے معرکے سر کیے۔ آپ میری باتوں کو محض تاثرات یا عارضی ہیجانات کا نتیجہ نہ سمجھئے گا۔ میرے پیچھے تجربات کی دنیا ہے۔ میرے مشاہدات بہت وسیع ہیں۔ میں نے کھلی آنکھوں سے دنیا کو دیکھا ہے اور انقلابات اور ان کے اثرات و نتائج کا انقلاب کی سرزمینوں میں رہ کر مطالعہ کیا...

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دو سال قبل تکمیل کی منزل تک پہنچا ہے، مغرب کی سیکولر لابیوں کو مسلسل کھٹک رہا ہے اور یہ لابیاں اور پاکستان میں ان کے حواری پینترے بدل بدل کر اس قانون پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغرب نے تو مذہب، آسمانی ہدایات، اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں اور برگزیدہ دینی شخصیات کی عقیدت و احترام کے دائرے ایک عرصہ سے توڑ تاڑ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں اور اب مغربی معاشرہ کی کیفیت یہ ہے کہ روزنامہ جنگ لندن ۳۰ مارچ ۱۹۹۴ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام،...

’’بنیاد پرستی‘‘ کی اصطلاح کا اصل پس منظر

پروفیسر غلام رسول عدیم

پیشتر اس کے کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ بنیاد پرستی کیا ہے، اس انگریزی لفظ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جس کا یہ ترجمہ ہے۔ بنیاد پرستی انگریزی لفظ Fundamentalism کا ترجمہ ہے۔ اس لفظ کے سامنے آتے ہی اصل لفظ کی کئی جہتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ لفظ Fundus کے معنی اناٹومی میں ہیں اساس، عضو، آنکھ کی گہرائی، وہ حصہ جس میں کوئی عضو واقع ہو۔ اصلاً یہ علمِ تشریح الاعضا (Anatomy) سے متعلق ہے اور اس کے معنی مقعد، قاعدہ، اساس یا پیندہ کے ہیں۔ اسی سے اسمِ صفت Fundamental بنا، جس کے معنی ہیں بنیادی، اساسی، اولیہ، اولی۔ چونکہ دورِ حاضر میں مختلف علمی سطحوں پر علوم و فنون کے ہزاروں...

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی: (۱) خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟(۳) اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل...

تدبر و حکمتِ عملی کی ضرورت

مولانا محمد رابع حسنی ندوی

موجودہ صدی کے وسط سے مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے ملی پیغام کی طرف توجہ دلانے کی جو کوششیں ہوئیں اور ان کو ان کا عزت و عظمت کا ماضی یاد دلانے کے لیے جو لکھا اور کہا گیا، اس کے یہ اثرات پڑے کہ مسلمانوں میں بیداری اور مِلی احساس و شعور کی ایک لہر اٹھی جو جگہ جگہ محسوس کی گئی، اور اس سے مستقبل میں اچھی توقعات قائم کی جانے لگیں۔ حتٰی کہ بعض کہنے والے کہنے لگے کہ اگلی صدی اسلام کی صدی ہو گی۔ چنانچہ جب ہجری تاریخ سے نئی صدی شروع ہوئی تو بڑا غلغلہ اٹھا کہ یہ صدی اسلام کی صدی ہے اور دنیا کی قیادت اب دیر سویر مسلمان کریں گے، یہ دیکھو فلاں جگہ بڑی دینی و...

مغربی فلسفہ کی یلغار اور دینی صحافت کی ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مغرب کا مادی فلسفہ حیات جو سولائزیشن، انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے پر فریب نعروں کے ساتھ آج دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنی بالادستی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے، انسانی معاشرہ کے لیے کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نسل انسانی کے آغاز سے چلے آنے والے اسی فلسفہ حیات کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے قرآن کریم نے ’’ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ فلسفہ جو وحی الٰہی اور علم یقینی کے بجائے انسانی خواہشات و مفادات اور عقل و شعور کے حوالے سے نسل انسانی کی راہ نمائی کا دعوے...

اسلام اور مغرب کی کشمکش ۔ برطانوی ولی عہد کی نظر میں

ادارہ

عالمِ اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان روابط آج جتنی اہمیت رکھتے ہیں پہلے کبھی نہ رکھتے تھے۔ آج کی باہم منحصر دنیا میں دونوں کو ساتھ رہنے اور ساتھ کام کرنے کی ضرورت شدید ہے لیکن دونوں کے درمیان سنگین غلط فہمیاں موجود ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ مغرب کی غلط فہمیوں کی وجہ اسلام اور مسلمانوں سے ناواقفیت نہیں، آخر مسلمان ہمارے ہی آس پاس رہتے ہیں، خود برطانیہ میں پانچ سو مسجدیں ہیں اور ۱۹۷۶ء کے ’’فیسٹیول آف اسلام‘‘ کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔ نوے کے عشرے میں، سرد جنگ کے بعد، امن کے امکانات اس صدی میں کسی دوسرے دور سے زیادہ ہونا...

اکیسویں صدی اور اسلام ۔ مغرب کیا سوچتا ہے؟

محمد عادل فاروقی

۲۱ ویں صدی کی اصل سپرپاور مسجد ہے یا گرجا؟ بلاشبہ یہ وہ نئی سرد جنگ ہے جو اب بھرپور انداز میں مشرق اور مغرب کے درمیان شروع ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے اصل حریف مسلمان اور عیسائی ہیں۔ مغربی مفکر جان آسپوزیٹو نے اپنی نئی ریسرچ میں اسلام اور عیسائیت کی نئی محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریباً تقریباً وہی حالات پیدا ہو چکے ہیں جو آج سے ۷۵ سال پہلے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت تھے۔ جس طرح سلطنتِ عثمانیہ کمزور ہوئی تھی اس طرح آج کلیسا پر زوال کے گہرے سائے پڑ چکے ہیں۔ جان کا کہنا ہے کہ جس طرح اس زمانے میں مسلمانوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ ان کا...

’’جمہوریت‘‘ — ماہنامہ الفجر کا فکر انگیز اداریہ

ادارہ

ہر قوم اور ہر ملت کے اپنے مخصوص نظریات ہوتے ہیں۔ ان نظریات کی بنا پر ان کا اپنا سیاسی نظام وضع ہوتا ہے۔ پھر اس نظام کو چلانے کے لیے اداروں کی تشکیل کی جاتی ہے۔ امت مسلمہ کے سوا جتنی بھی اقوام اور نسلی گروہ دنیا میں موجود ہیں انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی گزارنے کے ضابطے اور اصول خود وضع کیے ہیں۔ ان کے مطابق دساتیر بنائے گئے ہیں۔ ان پر وہ عمل پیرا ہیں۔ وہ اپنے اصولوں اور ضابطوں میں ترمیم و اضافہ بھی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر زیادہ تر اپنی زندگی کا ایسا لائحہ عمل اپناتے ہیں جس کے ذریعے وہ زندگی کے عیش و آرام کو زیادہ...

مسلمانوں کی قوت کا راز — خلافت

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

اس وقت دنیا میں پچاس کے قریب اسلامی حکومتیں ہیں مگر کوئی بھی اپنی رائے میں آزاد نہیں ہے۔ سب غیر مسلموں کے دستِ نگر ہیں، تمام اہم امور انہی کے مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ جب سے خلافتِ ترکی کا خاتمہ ہوا ہے مسلمانوں کا وقار ختم ہو گیا ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اپنے خطبہ میں لکھا ہے کہ مصر کا ایک انگریز اپنے ملازم سے کہہ رہا تھا کہ ہم تمہارے خلیفہ سے بہت خائف ہیں، جب کوئی شکایت خلیفہ کے پیش ہوتی ہے وہ اس کے تدارک کی فورًا کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے کفار کو ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر خلافت کی طاقت نہ ہوتی تو ہم مسلمانوں کو بہت...

مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ہفتے سعودی مملکت کے فرمانروا شاہ فہد کے ساتھ حکومت پاکستان کے ایک وفد کی ملاقات کے حوالے سے یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ شاہ فہد مسئلہ کشمیر پر اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے والے ہیں۔ معلوم نہیں اس خبر کی حقیقت کیا ہے لیکن جہاں تک اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے اس سے انکار یا صرفِ نظر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔کشمیری حریت پسند جس جرأت و استقلال کے ساتھ حصولِ آزادی کے لیے اپنے خون کی قربانی دے رہے ہیں اور افغان مجاہدین کے گیارہ سالہ کامیاب جہادِ آزادی کو آخری مراحل میں جس طرح سازشوں کے ذریعے ناکامی میں بدلنے...

مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں اور مسلم علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داری

محمد عمار خان ناصر

برصغیر میں فرنگی استعمار کے تسلط کے دوران عیسائی تبلیغی مشنریوں کا اس خطہ میں سرگرم عمل ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے۔ پادری فنڈر نے، جو کہ ایک امریکن نژاد کیتھولک پادری تھا، ان مشنریوں کی تحریک میں خصوصی کردار سرانجام دیا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے ساتھ اس پادری کا زبردست مناظرہ ہوا جس میں اس نے بائبل میں تحریف وغیرہ کا اقرار مجمع عام کے سامنے کر لیا۔ لیکن عیسائی مشنریوں نے اپنے اس سنہری دور میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور اس طرح انگریز اپنے اصل مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی پروردہ عیسائی مشنریوں کے قدم برصغیر میں جما کر چلا...

اسلامی نظامِ تعلیم کے خلاف فرنگی حکمرانوں کی سازش

شریف احمد طاہر

مسلم قوم اس کرۂ ارض پر چودہ سو سال سے جاوداں ہے۔ اس کے سفر کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی میں ہوا اور طاقت و توانائی خلفاء راشدینؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، علماء کرامؒ، مصلحینِ امتؒ اور صوفیائے عظامؒ سے حاصل ہوتی رہی۔ جب پرچمِ اسلام کو بنو امیہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو انہوں نے اس کو چین اور اسپین تک لہرایا۔ فرانس (کوہ پارنیز) کی سرحدوں کو عبورت کیا۔ کرۂ ارض کے مکینوں کو حیاتِ نو کا پیغام دیا اور علوم و فنون کی سرپرستی کی اور خلفاء بنو امیہ کا اسپینی دور علمی و سیاسی دونوں اعتبار سے عہدِ زریں کہلایا۔ جب یہ شمعٔ فروزاں...

اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ:’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ملک میں خواتین کے احترام میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس سلسلہ میں دس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کر کے ججوں سمیت مختلف حکام کو بھجوا دی ہے اور اس...

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جمعیۃ المسلمین واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے زیر اہتمام ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بعد نماز مغرب پیرش ہال میں ایک جلسۂ عام منعقد ہوا جس سے تحریک ختم نبوت کے عالمی راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی، مدیر الشریعہ مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ المسلمین کے امیر مولانا عبد الحمید اصغر نقشبندی اور مولانا عبد المتین نے خطاب کیا۔ مولانا چنیوٹی نے اپنے مفصل خطاب میں قادیانیت کے باطل عقائد اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی جبکہ مدیر الشریعہ نے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے مندرجہ ذیل خطاب کیا۔ ادارہ الشریعہ) بعد الحمد والصلٰوۃ۔ میں مسجد...

سابق مسلم ریاست البانیہ میں مسلمانوں کی حالتِ زار

محمود احمد

البانیہ مشرقی یورپ کا سب سے چھوٹا مگر سب سے زیادہ پراسرار ملک ہے۔ وہاں کے شب و روز عالمی پریس سے عموماً پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ اشتراکی حکمرانوں نے البانیہ کو دنیا کی پہلی سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی واحد کمیونسٹ حکومت تھی جو روس کے ایماء کے بغیر وجود میں آئی اور اس کی تشکیل میں یوگوسلاویہ کے ٹیٹو اور برطانیہ اور فرانس کی رضامندی کا دخل رہا۔ البانیہ یورپ کی واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر اس اکثریت کے باوجود وہاں اسلام شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا...
< 51-84 (84)🏠
Flag Counter