جولائی ۲۰۰۲ء

سود کے بارے میں چند گزارشات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام وقوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں یوبی ایل کی اپیل کی سماعت کے موقع پر دینی وملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے حسب ذیل گزارشات شریعت اپیلٹ بنچ کے معزز ارکان‘ فریقین کے وکلا اور اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم ودانش کی خدمت میں پیش کی گئیں: * سود تمام آسمانی شریعتوں میں حرام رہا ہے اور بائبل میں بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں چنانچہ بائبل...

اسلامی تحریکات کا ایک تنقیدی جائزہ (۲)

― ڈاکٹر یوسف القرضاوی

تحریک اسلامی جس طرح کے بگاڑ کا شکار ہو رہی ہے‘ اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ عقلی اور علمی پہلو پر جذبات کی دھندچھا رہی ہے۔ تحریک کی راہوں میں بلاشبہ جذبات کا ایک رول ضرور ہے۔ اس حد تک جذبات کی اہمیت سے انکار نہیں۔ جذبات وکیفیات قلبی کی لطیف لہروں کو یکسر مسدود کر دینا مقصود نہیں ہے اور نہ یہ منشاہے کہ عقل کو اتنا غلبہ حاصل ہو جائے کہ تحریک اسلامی عقلیت کے تابع ہو کر رہ جائے۔ یہ چیز نہ صرف تحریک کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے مزاج سے بھی اس کو کوئی مطابقت نہیں۔ اسلام عقل کا احترام سکھاتا ہے اور فکر ونظر کو کام میں لانے کی دعوت دیتا ہے لیکن یہ کوئی...

مسلمان معاشرے اور تعلیمات اسلام ۔ فکری کنفیوژن کیوں؟

― ارشاد احمد حقانی

ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی ایک ریاست (یعنی صوبے) کے وزیر اعلیٰ جناب عبد الہادی اورنگ کے اس عزم کو ناکام بنا دیں گے کہ وہ اپنی ریاست میں شرعی احکام نافذ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جناب عبد الہادی جس قسم کے قوانین نافذ کر رہے ہیں اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں ’’وہ جہنم میں جا سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مذکورہ قوانین نافذ کر کے ہادی اورنگ گناہ کے مرتکب ہوں گے کیونکہ یہ قوانین غیر منصفانہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’چونکہ انہوں نے ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جو حقیقی اسلامی تعلیمات پر مبنی...

عصر حاضر میں اسلامی فکر ۔ چند توجہ طلب مسائل

― ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا شمار عالم اسلام کے نامور اصحاب علم اور ماہرین معاشیات میں ہوتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں انہوں نے نہایت بالغ نظری کے ساتھ ان مباحث کی نشان دہی کی ہے جو دین وشریعت کی تعبیر وتشریح اور امت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنجوں کے حوالے سے عالم اسلام کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ تحریر کی اہمیت کے پیش نظر اسے افادۂ عام کے نقطہ نظر سے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے شکریے کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ (مدیر) ۔ دور جدید میں احیاے اسلام کی کوشش، یا زیادہ جامع الفاظ میں اسلامی زندگی کو عقیدہ ومسلک، اجتماعی رویہ، قانون ملکی اور دستور...

امت مسلمہ کو درپیش فکری مسائل کے حوالے سے چند اہم گزارشات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’عصر حاضر میں اسلامی فکر۔ چند توجہ طلب مسائل‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون اندازاً ربع صدی قبل تحریر کیا گیا تھا لیکن اس کی اہمیت وافادیت آج بھی موجود ہے بلکہ مسائل کی فہرست اور سنگینی میں کمی کے بجائے اس دوران میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر مسائل خود میرے مطالعہ کا موضوع بھی رہے ہیں اور بعض مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھا بھی ہے مگر یہ خواہش رہی ہے کہ ایجنڈا اور تجاویز کے طور پر ایسے مسائل کی ایک مربوط فہرست سامنے آجائے جو اس وقت دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر ’’اسلامائزیشن‘‘ کے حوالے سے...

مجوزہ آئینی ترامیم کا ایک جائزہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

این آر بی کی طرف مجوزہ آئینی ترامیم منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کا پس منظر اور بنیاد صدر پاکستان کا وہ فرمان ہے جس کے مطابق انہوں نے واقعیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’طاقت‘‘ کے تین ستونوں کی نشان دہی کی ہے: صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف۔ صدر محترم کا فرمان ہے کہ ان تینوں کے درمیان ’’توازن‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجوزہ آئینی ترامیم کا سرسری مطالعہ ہی واضح کر دیتا ہے کہ اصل اہتمام صدر کو ’’فنا فی الدستور‘‘ کرنے کا کیا جا رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ترمیمی پیکج تیار کرنے والے ’’تھنک ٹینک‘‘ نے سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اکیسویں صدی کے تقاضوں...

جولائی ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۷

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter